BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 February, 2004, 15:34 GMT 20:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جب ممتا موت کے خوف پر حاوی ہوگئی
News image
پہلے پہل افغانوں کے لئے امدادی پیکٹوں اور کلسٹر بموں میں تمیز کرنا مشکل تھا
افغانستان کے پسماندہ گاؤں حاجی بائی نذر کی دو خواتین نے اپنی نگاہوں کے سامنے دو چھوٹے بچوں کو کلسٹر بم سے کھیلتے جب یکدم ایک دھماکے سے اڑتے دیکھا تو انہوں نے تہیہ کر لیا کہ وہ علاقے سے تمام ایسے بمبوں کو تلاش کر کے ناکارہ بنائیں گی جو طالبان مخالف جنگ میں امریکہ نے اس علاقے پر برسائے تھے اور وہ نہیں پھٹے تھے۔

ان خواتین نے اپنے گاؤں کو ایسے مزید ہولناک واقعات سے محفوظ رکھنے کے لئے علاقے سے درجنوں کلسٹر بم تلاش کر کے انہیں ناکارہ بنایا اور اس کارنامہ کے باعث انہیں انتہائی پذیرائی حاصل ہوئی اور اب انہیں مقامی سطح پر منفرد مقام حاصل ہو گیا ہے۔

امریکی روزنامہ نیویارک ٹائمز کے مطابق بارودی سرنگیں صاف کرنے کی ماہر برطانوی تنظیم ہیلو ٹرسٹ کے ڈاکٹر ناصری نے بتایا کہ ’ہم نے ان خواتین سے کہا کہ ان کا دماغ چل گیا ہے کیونکہ یوں وہ ہلاک بھی ہو سکتی تھیں‘۔

صرف دو پونڈ وزن کے بموں سے ہونے والے دھماکوں کے باعث دو بچوں کی ہلاکت اور ایک کے شدید زخمی ہونے کا منظر دیکھنے کے بعد پچاس برس کی خیرالنساء اور چالیس برس کی نسرین نے علاقے پر ہونے والی امریکی بمباری میں نہ پھٹنے والے بموں کی تلاش کا کام شروع کیا۔

گاؤں کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے ان خواتین نے کئی روز کی محنت کے بعد علاقے سے تقریباً ستر کلسٹر بم تلاش کر کے انہیں ناکارہ بنایا۔ ہیلو ٹرسٹ نے دیہاتیوں کے اس بیان کی تائید کی ہے۔

ایک ایسے ملک میں کہ جہاں خواتین کو خاندان کے مردوں کے مقابلے میں کمتر سمجھا جاتا ہے اور انہیں گھریلو معاملات میں فیصلہ کرنے کا حق بھی حاصل نہیں، ایسے ماحول میں اس طرح کی جرات و ہمت کے باعث وہ مقامی سطح پر لیجنڈ بن کر ابھری ہیں۔

ان خواتین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کی حفاظت کے پیش نظر بم صاف کرنے کا فیصلہ کیا۔

نسرین کا کہنا تھا کہ ’مجھے خطرہ تھا کہ کہیں میرے بیٹے بھی زخمی نہ ہو جائیں‘۔ گاؤں سے پہلا کلسٹر بم بھی نسرین ہی نے تلاش کیا تھا۔

کلسٹر بم
کلسٹر بم بوچھاڑ کی صورت وسیع علاقے کو لپیٹ میں لے لیتے ہیں

خیرالنساء نے بتایا کہ ’سڑک پر جا بجا بم بکھرے تھے۔ ہم پانچ روز تک انہی بموں کے بیچوں بیچ گزرتے رہے لیکن ہم نے انہیں چھوا نہیں۔ ہمیں معلوم تھا کہ یہ بہت خطرناک ہیں۔ لیکن جب چھوٹے بچے ان بموں کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تو ہم نے کچھ کرنے کی ٹھانی۔ مرد ان بموں کے قریب نہیں گئے بلکہ وہ خوفزدہ ہو کر اپنے گھروں میں جا گھسے۔ مجھے کوئی ڈر نہ تھا کیونکہ مجھے خدا کی ذات پر پورا بھروسہ تھا‘۔

نسرین نے تین روز میں چونتیس بم تلاش کرنے کے بعد انہیں ناکارہ بنایا۔

ہیلو ٹرسٹ کے مطابق امریکی فوجی کی طالبان مخالف کارروائیوں کے دوران برسائے گئے ان بموں میں سے ایک تہائی نہیں پھٹے تھے اور یہ بم زمین کی سطح کے اوپر یا کچھ نیچے پڑے تھے اور معمولی سی جنبش یا درجۂ حرارت میں اضافہ بم دھماکے کا سبب بن سکتا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد