BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 June, 2007, 09:09 GMT 14:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میانی شین ضلع طالبان سے لےلیاگیا
زخمی
ارزگان صوبے کے قریب ہونی والی لڑائی میں درجنوں افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں
افغانستان میں فوج کے ایک کمانڈر کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی صوبے قندھار کا ایک ضلع جس پر طالبان نے قبضہ کر لیا تھا دوبارہ سے ان کے کنٹرول میں آ گیا ہے۔

اس سے قبل افغان فورسز نے بتایا تھا کہ انہوں نے فوجی حکمت عملی کے تحت میانی شن ضلع سے اپنی فورسز پیچھے ہٹائی ہیں۔

قندھار پولیس سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک اور ضلع گورکھ پر مزاحمت کاروں کا قبضہ ہو گیا ہے۔

دریں اثناء، ارزگان صوبے کے قریب ہونی والی لڑائی میں درجنوں افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ساٹھ شہری مارے جا چکے ہیں تاہم نیٹو افواج نے اس کی تردید کی ہے۔

قندھار پولیس کے سربراہ جنرل عصمت اللہ علی زئی بتایا:’ہماری فورسز ایک حکمت عملی کے تحت علاقے سے پیچھے ہٹی ہیں تاہم وہ جلدی ہی دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیں گی مگر ہمارا کوئی فوجی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا‘۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ضلع گورکھ پر اس وقت طالبان کا قبضہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان فوج نے ضلع میانی شن کا دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا
ہے۔ ضلع پر دوبارہ کنٹرول کے لیے آج دوپہر کو نیٹو افواج کے ساتھ مل کر فوجی آپریشن شروع کیا گیا۔

افغانستان میں نیٹو افواج نے طالبان کے خلاف آپریشن شروع کردیا ہے

دریں اثناء ایک اور واقعہ میں ایک شخص اس وقت زخمی ہوگیا جب وہ بگرام میں امریکہ کے سب سے بڑے فوجی ٹھکانے کے باہر ایک بم نصب کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

امریکی اتحادی اور افغان فورسز کا کہنا ہے کہ بم کے اچانک پھٹ جانے کی وجہ سے یہ شخص زخمی ہوگیا اور اب افغان پولیس کی تحویل میں ہے۔

اطلاعات کے مطابق ارزگان کے چھورا ضلع میں بھی تین دن سے لڑائی جاری ہے۔
اس لڑائی میں اب تک سو سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جنہیں صوبے کے مرکزی ہسپتال میں داخل کردیا گیا ہے جبکہ جس علاقے میں لڑائی ہو رہی ہے، وہاں مزید افراد زخمی حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہسپتال میں تمام زخمیوں کے علاج کی گنجائش نہیں ہے۔

صوبائی کونسل کے سربراہ مولوی حمد اللہ نے صدر حامد کرزئی سے ہیلی کاپٹرز بھیجنے کی اپیل کی ہے تاکہ زخمیوں کو کابل کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جاسکے۔

ان کے مطابق لڑائی میں ساٹھ عام شہری، تیس طالبان اور سترہ افغان فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں طالبان کا ایک اہم کمانڈر بھی بتایا جاتا ہے۔

لیکن نیٹو افواج کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کسی عام شہری کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ ان کے مطابق ساٹھ طالبان اور ہالینڈ کا ایک فوجی مارا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق طالبان نے گورکھ ضلع پر قبضہ کر لیا ہے

ارزگان کے پولیس سربراہ نے بتایا کہ لڑائی میں پینسٹھ طالبان مارے گئے ہیں
لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی بمباری میں کچھ عام شہری مارے گئے ہیں۔

گزشتہ برس طالبان فورسز نے چھورا ضلع پر قبضہ کر لیا تھا لیکن سرکاری افواج نے چند ہی دن میں دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔

نامہ نگاروں کے مطابق گزشتہ دو سال میں طالبان نے وقتاً فوقتاً کئی علاقوں پر قبضہ کیا ہے لیکن ان میں سے صرف ایک پر وہ اپنا کنٹرول قائم رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔

سی ڈیطالبان ’پراپیگنڈا‘
’خودکش حملہ آور بنو، جنت میں جاؤ‘
طالبانطالبان کے ساتھ
ہارون رشید کا طالبان کے سات سفر کا قصہ
پاکستان پر بھی طالبان کے سایےامن کے لیے خطرہ
پاکستان پر بھی طالبان کی بڑھتی طاقت کے سائے
موسیقی پر حملہ
طالبانائزیشن کی پہنچ پشاور تک؟
طالبان(فائل فوٹو)وزیرستان میں امن
طالبان کا امن معاہدہ جاری رکھنے کا فیصلہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد