میانی شین ضلع طالبان سے لےلیاگیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں فوج کے ایک کمانڈر کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی صوبے قندھار کا ایک ضلع جس پر طالبان نے قبضہ کر لیا تھا دوبارہ سے ان کے کنٹرول میں آ گیا ہے۔ اس سے قبل افغان فورسز نے بتایا تھا کہ انہوں نے فوجی حکمت عملی کے تحت میانی شن ضلع سے اپنی فورسز پیچھے ہٹائی ہیں۔ قندھار پولیس سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک اور ضلع گورکھ پر مزاحمت کاروں کا قبضہ ہو گیا ہے۔ دریں اثناء، ارزگان صوبے کے قریب ہونی والی لڑائی میں درجنوں افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ساٹھ شہری مارے جا چکے ہیں تاہم نیٹو افواج نے اس کی تردید کی ہے۔ قندھار پولیس کے سربراہ جنرل عصمت اللہ علی زئی بتایا:’ہماری فورسز ایک حکمت عملی کے تحت علاقے سے پیچھے ہٹی ہیں تاہم وہ جلدی ہی دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیں گی مگر ہمارا کوئی فوجی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا‘۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ضلع گورکھ پر اس وقت طالبان کا قبضہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان فوج نے ضلع میانی شن کا دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا
دریں اثناء ایک اور واقعہ میں ایک شخص اس وقت زخمی ہوگیا جب وہ بگرام میں امریکہ کے سب سے بڑے فوجی ٹھکانے کے باہر ایک بم نصب کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امریکی اتحادی اور افغان فورسز کا کہنا ہے کہ بم کے اچانک پھٹ جانے کی وجہ سے یہ شخص زخمی ہوگیا اور اب افغان پولیس کی تحویل میں ہے۔ اطلاعات کے مطابق ارزگان کے چھورا ضلع میں بھی تین دن سے لڑائی جاری ہے۔ صوبائی کونسل کے سربراہ مولوی حمد اللہ نے صدر حامد کرزئی سے ہیلی کاپٹرز بھیجنے کی اپیل کی ہے تاکہ زخمیوں کو کابل کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جاسکے۔ ان کے مطابق لڑائی میں ساٹھ عام شہری، تیس طالبان اور سترہ افغان فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں طالبان کا ایک اہم کمانڈر بھی بتایا جاتا ہے۔ لیکن نیٹو افواج کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کسی عام شہری کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ ان کے مطابق ساٹھ طالبان اور ہالینڈ کا ایک فوجی مارا گیا ہے۔
ارزگان کے پولیس سربراہ نے بتایا کہ لڑائی میں پینسٹھ طالبان مارے گئے ہیں لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی بمباری میں کچھ عام شہری مارے گئے ہیں۔ گزشتہ برس طالبان فورسز نے چھورا ضلع پر قبضہ کر لیا تھا لیکن سرکاری افواج نے چند ہی دن میں دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔ نامہ نگاروں کے مطابق گزشتہ دو سال میں طالبان نے وقتاً فوقتاً کئی علاقوں پر قبضہ کیا ہے لیکن ان میں سے صرف ایک پر وہ اپنا کنٹرول قائم رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’طالبان حملوں میں شدت کا خدشہ‘16 May, 2007 | آس پاس ہلمند میں دسیوں طالبان ہلاک31 May, 2007 | آس پاس کرزئی کے جلسے پر راکٹ حملہ10 June, 2007 | آس پاس خودکش حملے میں چھ بچے ہلاک15 June, 2007 | آس پاس باجوڑ میں ’طالبان‘ سڑکوں پر 18 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||