’طالبان حملوں میں شدت کا خدشہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں نیٹو فورسز کا کہنا ہے کہ طالبان کمانڈر ملا داداللہ کی ہلاکت کے بعد وہ طالبان کی جانب سے مزید حملوں کے لیے تیار ہیں۔ افغانستان میں نیٹو فورسز کے امریکی سربراہ جنرل ڈان میکنیل نے کہا کہ ملا داداللہ کی ہلاکت سے طالبان مزاحمت کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ جنرل میکنیل نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ طالبان چند ہفتوں کے اندر دوبارہ منظم ہوجائیں گے اور خودکش دھماکے جاری رکھیں گے۔ نیٹو نے کہا ہے کہ ملا داداللہ افغان اور اتحادی افواج کے ساتھ ایک مسلح جھڑپ میں افغانستان کے صوبہ ہلمند میں مارے گئے تھے۔ ملا داداللہ کو طالبان کا اہم رہنما سمجھا جاتا تھا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ گزشتہ بارہ مہینوں کے دوران ملا داداللہ افغانستان میں کافی اہم فوجی کمانڈر ثابت ہوئے، بالخصوص جنوبی افغانستان میں جہاں طالبان کی مزاحمت شدید ثابت ہوئی ہے۔ تاہم ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ ملا داداللہ کی ہلاکت کا طالبان مزاحمت پر کتنا اثر پڑے گا کیونکہ طالبان کی کوئی مرکزی کمان نہیں ہے اور وہ اکثر چھوٹے گروہوں کی شکل میں کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ جنرل میکنیل نے برطانوی اخبار فائننشیل ٹائمز کو بتایا کہ طالبان مزاحمت ’ہفتوں کے اندر‘ متحرک ہوجائے گی۔ حالیہ برسوں میں افغانستان میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال افغانستان میں طالبان اور اتحادی افواج کے درمیان لڑائیوں میں چار ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ |
اسی بارے میں ملا داد اللہ کو ہلاک کر دیا گیا13 May, 2007 | آس پاس طالبان: تین افغانیوں کو پھانسی01 April, 2007 | آس پاس دو ہزارخودکش بمبار تیار ہیں: طالبان17 February, 2007 | آس پاس طالبان کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ04 February, 2007 | آس پاس افغانستان: سات پولیس اہلکار ہلاک01 April, 2007 | آس پاس طالبان: قتل، بارہ سالہ بچے کااستعمال21 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||