BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان: قتل، بارہ سالہ بچے کااستعمال
طالبان کی حامی ایک ویب سائٹ پر فرانسیسی فوج کے انخلاء کا مطالبہ کیا گیا ہے
افغانستان میں طالبان نے امریکی فوج کے لیے جاسوسی کرنے کے شبہہ میں ایک شخص کو ہلاک کرنے کے لیے بارہ سال کی عمر کے ایک لڑکے کو استعمال کیا ہے۔

عرب ٹی وی چینل العربیہ پر ایک وڈیو کے کچھ حصے دکھائے گئے ہیں جس میں مغوی شخص کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ وہ سر کے بل زمین پر پڑا ہوا تھا۔ لڑکا جس نے کیموفلاج کی جیکٹ اور ہاتھ میں لمبی سی چُھری پکڑی ہوئی تھی، زمین پر پڑے اس شخص پر جاسوسی کا الزام لگاتے ہوئے اس کا سر قلم کردیا۔

اس شخص کے بارے میں طالبان کا دعوی ہے کہ غلام نبی نامی اس شخص نے امریکی فوج کو طالبان کے خفیہ ٹھکانوں کے بارے میں اطلاعات فراہم کی تھیں جس کے بعد دسمبر میں ایک امریکی حملے میں ان کے ایک اہم رہنما اختر محمد عثمانی ہلاک کردیے گئے تھے۔

غلام نبی کے والد کا جو پاکستان میں رہتے ہیں، کہنا تھا کہ ان کے بیٹے جاسوس نہیں بلکہ طالبان کے وفادار تھے۔

غلام نبی پر امریکیوں کے جاسوس ہونے کا الزام لگایا گیا

دریں اثناء طالبان کی حامی ایک ویب سائٹ پر طالبان کی جانب سے جاری ایک بیان میں افغانستان سے فرانسیسی فوج کے انخلاء کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ مطالبہ دو فرنچ ایڈ ورکرز اور ان کے تین افغان گائیڈ کے اغواء کے بدلے سامنا آیا ہے۔ بیان میں طالبان قیدیوں کے بعض اراکین کی رہائی کا مطالبہ بھی کیاگیا ہے۔ دوسری طرف فرانسیسی حکام نے طالبان کے مطالبات پر غور کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ افغانستان میں اس وقت ایک ہزار فرنچ فوجی نیٹو کی امن فوج کا حصہ ہیں۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت مغوی افراد کی بازیابی کے لیے تمام تر کوششیں کر رہی ہے تاہم انہوں نے مغوی افراد کے بدلے طالبان قیدیوں کی رہائی کی بات کو یکسر مسترد کردیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ اٹلی کے ایک صحافی کے بدلے طالبان قیدیوں کی رہائی پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

طالبانطالبان کے ساتھ
ہارون رشید کا طالبان کے سات سفر کا قصہ
پاکستان پر بھی طالبان کے سایےامن کے لیے خطرہ
پاکستان پر بھی طالبان کی بڑھتی طاقت کے سائے
قبائلکون کس کے ساتھ ہے؟
جنوبی وزیرستان میں لڑنے والے قبائل کون ہیں؟
ملا نذیر احمدازبک اور ملا نذیر
’فساد گر‘ غیر ملکیوں کیلیے کوئی جگہ نہیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد