طالبان: قتل، بارہ سالہ بچے کااستعمال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں طالبان نے امریکی فوج کے لیے جاسوسی کرنے کے شبہہ میں ایک شخص کو ہلاک کرنے کے لیے بارہ سال کی عمر کے ایک لڑکے کو استعمال کیا ہے۔ عرب ٹی وی چینل العربیہ پر ایک وڈیو کے کچھ حصے دکھائے گئے ہیں جس میں مغوی شخص کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ وہ سر کے بل زمین پر پڑا ہوا تھا۔ لڑکا جس نے کیموفلاج کی جیکٹ اور ہاتھ میں لمبی سی چُھری پکڑی ہوئی تھی، زمین پر پڑے اس شخص پر جاسوسی کا الزام لگاتے ہوئے اس کا سر قلم کردیا۔ اس شخص کے بارے میں طالبان کا دعوی ہے کہ غلام نبی نامی اس شخص نے امریکی فوج کو طالبان کے خفیہ ٹھکانوں کے بارے میں اطلاعات فراہم کی تھیں جس کے بعد دسمبر میں ایک امریکی حملے میں ان کے ایک اہم رہنما اختر محمد عثمانی ہلاک کردیے گئے تھے۔ غلام نبی کے والد کا جو پاکستان میں رہتے ہیں، کہنا تھا کہ ان کے بیٹے جاسوس نہیں بلکہ طالبان کے وفادار تھے۔
دریں اثناء طالبان کی حامی ایک ویب سائٹ پر طالبان کی جانب سے جاری ایک بیان میں افغانستان سے فرانسیسی فوج کے انخلاء کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ مطالبہ دو فرنچ ایڈ ورکرز اور ان کے تین افغان گائیڈ کے اغواء کے بدلے سامنا آیا ہے۔ بیان میں طالبان قیدیوں کے بعض اراکین کی رہائی کا مطالبہ بھی کیاگیا ہے۔ دوسری طرف فرانسیسی حکام نے طالبان کے مطالبات پر غور کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ افغانستان میں اس وقت ایک ہزار فرنچ فوجی نیٹو کی امن فوج کا حصہ ہیں۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت مغوی افراد کی بازیابی کے لیے تمام تر کوششیں کر رہی ہے تاہم انہوں نے مغوی افراد کے بدلے طالبان قیدیوں کی رہائی کی بات کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ اٹلی کے ایک صحافی کے بدلے طالبان قیدیوں کی رہائی پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ |
اسی بارے میں افغانستان: ضلعی پولیس سربراہ اغواء01 January, 2007 | آس پاس افغانستان میں ’آٹھ شہری‘ ہلاک04 March, 2007 | آس پاس افغانستان: سات پولیس اہلکار ہلاک01 April, 2007 | آس پاس افغانستان: نیٹو کے 6 فوجی ہلاک08 April, 2007 | آس پاس افغانستان: دس پولیس اہلکار ہلاک16 April, 2007 | آس پاس کینیڈا: افغانستان سے نکلنے کا دباؤ 13 February, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||