کینیڈا: افغانستان سے نکلنے کا دباؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینیڈا کی سینیٹ کمیٹی نے اپنے ملک کی حکومت سے کہا ہے کہ اگر نیٹو میں شامل اس کے اتحادی مزید فوجی افغانستان نہیں بھیجتے تو انہیں افغانستان سے انخلاء پر غور کرنا چاہیے۔ کینیڈا کے افغانستان میں پچیس سو فوجی تعینات ہیں اور ملک کے جنوبی صوبے قندہار میں جاری کارروائیوں میں ان کا مرکزی کردار ہے۔ کینیڈا کے بیالیس فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ صرف امریکہ اور برطانیہ کے افغانستان میں کینیڈا سے زیادہ فوجی موجود ہیں۔ کینیڈا کی سینیٹ کمیٹی نے کہا ہے کہ اگر نیٹو ممالک نے مزید فوجی نہ بھیجی تو ان کے فوجیوں کو بارہ ماہ کے اندر واپس بلا لینا چاہیے۔ سینیٹر کولن کینی نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ نیٹو کے ممالک آگے بڑھ کر کینیڈا کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر اپنا کردار ادا کریں۔ کینی نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ ہم انتہائی سنجیدہ جدو جہد کر رہے ہیں اور اس میں وقت لگے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ خام خیالی ہے کہ افغانستان میں اچانک جمہوریت قائم ہو جائے گی۔ نیٹو میں شامل دیگر ممالک فرانس، جرمنی اور اٹلی نے اپنی کارروائیاں ملک کے نسبتاً محفوظ شمالی علاقوں تک محدود کر دی ہیں جو کینیڈا کی مایوسی کا باعث بن رہا ہے۔ | اسی بارے میں افغانستان: کینیڈا کے 6 فوجی زخمی17 August, 2006 | آس پاس طالبان: نیٹو کی نئی حکمت عملی10 January, 2007 | آس پاس کینیڈا: ’مشتبہ القاعدہ رکن‘ بری20 September, 2006 | آس پاس کینیڈا میں چھاپے اور گرفتاریاں03 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||