کینیڈا: ’مشتبہ القاعدہ رکن‘ بری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینیڈا میں ایک حکوتی انکوائری میں ملک کے سرکاری اداروں کو ایک عرب نژاد کینیڈین شہری پر دہشتگردی کا غلط الزام لگانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ماہرعرر نامی اس شہری کو القاعدہ کا رکن سمجھتے ہوئے ستمبر سنہ دوہزار میں نیویارک میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ امریکی حکام نے اسے ملک بدر کر کے شام بھیج دیا تھا جہاں ماہر عرر کے مطابق انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انکوائری نے عرر کو دہشگردی کے الزام میں بے قصور قرار دیا ہے اور ساتھ ہی کینیڈین حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ انہیں مالی ہرجانہ ادا کرے۔ لوگوں کو جسٹس ڈینس اوکونر کی قیادت میں جاری اس انکوائری کے فیصلے کا کافی عرصہ سے انتظار تھا۔ جسٹس نے ماہر عرر کو واضح طور پر معصوم قرار دیتے ہوئے کہا ’میں یہ بات واضح طور پر کہہ سکتا ہوں کہ مسٹر عرر نے بالکل کوئی جرم نہیں کیا تھا نہ ان کی حرکات سے کینیڈا کی سکیورٹی کو کسی قسم کا خطرہ ہے۔‘ ماہر عرر ستمبر دو ہزار دو میں تیونس میں چُھٹی گزارنے کے بعد کینیڈا واپس جاتے ہوئے نیو یارک کے جان ایف کینیڈی ائیرپورٹ پر پرواز تبدیل رہے تھے کے سکیورٹی حکام نے ان کو حراست میں لے لیا ۔ ان کو دو ہفتے حراست میں رکھا گیا اور پھر اپنے ملک یعنی کینیڈا بھیجنے کے بجائے امریکی حکام نے ان کو شام بھیج دیا تھا۔ جسٹس اوکونر نے اپنے فیصلے میں کینیڈا کی پولیس پر خاص طور پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے امریکہ کے ساتھ غلط اور غیر منصفانہ معلومات کا تبادلہ کیا۔ تاہم انہوں نے فیصلے میں یہ بات واضح کی کہ کینیڈین حکام نے ماہر عرر کی امریکہ سے ملک بدری میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ واضح رہے کہ مذکورہ انکوائری کے دائرے کار میں صرف کینیڈین اداروں کے کردار کا جائزہ لینا تھا اس لیئے اس کے فیصلے میں اس مقدمے میں امریکہ کے کردار کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ | اسی بارے میں پاکستانی نژاد برطانوی ملک بدر10 January, 2006 | پاکستان پاکستانی امام کی امریکہ بدری16 August, 2005 | آس پاس مشتبہ القاعدہ ارکان کی ملک بدری09 May, 2005 | صفحۂ اول کویت: القاعدہ سے تعلقات، سزائے موت27 December, 2005 | آس پاس فرانس: دہشگردی مخالف بل منظور30 November, 2005 | آس پاس آسڑیلیامیں’القاعدہ‘ کا فروغ 13 August, 2005 | آس پاس کینیڈا تجھے سلام21 June, 2005 | Blog | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||