آسڑیلیامیں’القاعدہ‘ کا فروغ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسڑیلیا کے وزیر خارجہ الیگزینڈر ڈونر نےخبردار کیا ہے کہ آسڑیلوی شہریوں کا ایک چھوٹا سا گروہ عسکریت پسند تنظیم القاعدہ سے جا ملا ہے۔ وہ حال ہی میں ریلیزہونےوالی ایک وڈیو ٹیپ کے حوالےسے بات کررہے تھے جس میں آسڑیلوی لب ولہجے کے مالک ایک شخص نے مغرب کے خلاف مزید کارووائیاں کرنے کی دھمکی دی تھی۔ آسڑیلیوی اخبارات نےاس شخص کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ ایک سابق سپاہی ہے اور اس کا نام میتھو اسٹیورڈ ہے۔ اس شخص نے وڈیو فلم میں جنگجوؤں جیسا حلیہ بنا رکھا تھا جبکہ اس کاچہرہ کپڑے سے چھپا ہوا تھا۔ اس کے خاندان نے ایک بیان میں اس بات کی تردید کی ہے کہ اس وڈیو میں نظر والا شخص میتھو اسٹیورڈ ہے۔ وہ دو ہزار ایک کے بعد فوج سے نکل گیا تھا۔ آخری مرتبہ اس نے فوج میں بحیثیت سپاہی مشرقی تیمور میں خدمات یہ وڈیو سب سے پہلے دبئی کے ایک ٹی وی چینل العربیہ سے نشر کیا گیا۔ ڈونر نے بتایا کہ کئی وجوہات کے سامنے آنے کے بعد حکومت اس نتجے پر پہنچی ہے کہ یہ شخص ان لوگوں میں شامل ہے جوالقاعدہ سے جا ملے ہیں۔ وہ شخص اس وڈیو فلم میں یہ کہتا نظر آتا ہے کہ ’اگر ہم پر حملہ کیا گیا تو تم بھی نہیں بچو گے‘۔ اس شخص نےاس میں یہ نہیں بتایا کہ وہ کس جماعت سے تعلق رکھتا ہے۔ اس وڈیو فلم کے بعد میتھو اسٹیورڈ کے خاندان سے رابطہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ تقریباً چار سال سے اس کا اپنے گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ الیگزینڈر ڈونر نے کہا ہے کہ اسٹیورڈ کے دہشت گردوں سے رابطے ہوسکتے ہیں۔ یہ وڈیو اس وقت سامنےآئی ہے کہ جب آسڑیلوی وزیراعظم جون ہارڈورڈ پر سکیورٹی قوانین کو سخت کرنے کے حوالے سے دباؤ ہے۔ آسڑیلیا عراق پر حملہ میں امریکہ کا اتحادی تھا اور اس کی فوج افغانستان میں بھی خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||