’بغداد،یروشلم زیادتی کاشکار ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی رکن پارلیمان جارج گیلووے نے کہا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ بغداد کے ساتھ ’زنا بالجبر‘ کر رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کےدورے کے دوران انہوں نے کہا کہ ’غریب عراقی‘ انتہائی سادہ ہتھیاروں سے اپنے شہروں کا نام ستاروں پر لکھ رہے ہیں۔ رسپکٹ پارٹی کے ایم پی جارج گیلووے نے کہا کہ امریکہ عراق میں جنگ ہار رہا ہے۔ لیبر پارٹی کے ایم پی ایرک جائس نے جارج گیلووے کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کسی حد تک برطانوی فوجیوں کے لیے خطرے میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیلووے کا زیادہ اثر نہیں ہے۔ مشرق وسطیٰ میں تقریر کرتے ہوئے جارج گیلووے نے کہا کہ ’یہ غریب عراقی، بد حال لوگ، چپلیں پہنے ہوئے کلاشنکوفوں اور انتہائی سادہ ہتھیاروں سے ہر روز اوسطاً ایک سو پینتالیس کارروائیوں کے ساتھ اپنے شہروں کے نام ستاروں پر لکھ رہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم نہیں جانتے کہ وہ کون ہیں، ہمیں ان کے نام نہیں معلوم، ہم نے کبھی ان کے چہرے نہیں دیکھے، وہ اپنے شہیدوں کی تصاویر دیواروں پر آویزاں نہیں کرتے، ہمیں ان کے رہنماؤں کے نام نہیں معلوم‘۔ جارج گیلووے نے بی بی سی کو بتایا نے انہوں نے عراقی مزاحمت کاروں کو شہید نہیں کہا۔ انہوں نے کہا کہ وہ برطانوی اور امریکی افواج کو عراق سے واپس بلوا کر خون خرابا روکنا چاہتے ہیں۔ جارج گیلووے نے کہا کہ برطانوی فوجیوں کی جان کو ٹونی بلیئر کی حکومت نے خطرے میں ڈالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’جن ممالک پر امریکہ اور برطانیہ نے قبضہ کیا ہے وہ ان کے ہاتھوں زنا بالجبر کا شکار ہو رہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ یروشلم اور بغداد غیر ملکیوں کے ہاتھ میں جو ان کے ساتھ اپنی مرضی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے فوجیوں کے لیے نفرت وہ پیدا کر رہے ہیں جنہوں نے انہیں عراق میں تعینات کیا، نہ کہ ہماری طرح کے ان لوگوں نے جو کہ ان کو ملک واپس بلوانا چاہتے ہیں‘۔ جارج گیلووے نے کہا کہ القاعدہ کی جڑیں عراق کے خلاف پہلی لڑائی، یروشلم پر قبضے اور مغرب کی اسلامی ممالک میں کرپٹ حکمرانوں کی حمایت میں ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر تعداد کی بات کی جائے ’تو جارج بش اور ٹونی بلیئر کے ہاتھوں پر سب سے زیادہ خون ہے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||