پاکستانی نژاد برطانوی ملک بدر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکام نے ایک پاکستانی نژاد برطانوی شہری ذیشان صدیقی کو اتوار کی رات برطانیہ ڈی پورٹ کر دیا ہے۔ ان پر لندن بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا شبہ بھی ظاہر کیا گیا تھا مگر بعد میں ان پر ویزا قوانین کی خلاف ورزی اور فراڈ کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا جو ثابت نہ ہو سکا۔ ذیشان صدیقی کی وکیل مسرت ہلالی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ذیشان صدیقی اب لندن میں واقع اپنے گھر میں واپس پہنچ چکے ہیں اور ان کی آج ذیشان سے فون پر بات بھی ہوئی ہے۔ ذیشان صدیقی کو گزشتہ برس پندرہ مئی کو صوبہ سرحد کے شہر شب قدر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ذیشان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انیس سو ننانوے میں لندن میں اپنے گھر سے کسی کو بغئیر بتائے چلے گئے تھے۔ ذیشان کی وکیل کے مطابق انٹیلیجنس حکام نے لندن بم دھماکوں کے بعد ذیشان صدیقی سے اس بارے میں تفتیش کی تھی مگر ان کے لندن بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔ پشاور کے ایک مجسٹریٹ اور سیشن عدالت میں ذیشان کے خلاف ویزا خلاف ورزی اور فراڈ کے دو مقدمات چلائے گئے تھے مگر دونوں عدالتوں نے انہیں ان الزامات سے بری کر دیا تھا جس کے بعد ان کو اتوار کی شب قطر ائرلائن کی پرواز کے ذریعے برطانیہ ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ | اسی بارے میں ’ہمیں کوئی ثبوت نہیں دیا گیا‘14 July, 2005 | پاکستان برطانیہ کو آگاہ کیا تھا: شیرپاؤ13 July, 2005 | پاکستان ’ایک بمبار پاکستان گیا تھا‘14 July, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||