اُسامہ کہاں، معلوم نہیں: ملا عمر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق طالبان کے مفرور رہنما ملا عمر نے کہا ہے کہ پانچ سال قبل افغانستان میں امریکی اور اس کی اتحادی فوج کے قبضے کے بعد سے انہیں علم نہیں کہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کہاں ہیں۔ خبررساں ادارے رائٹرز نے ملا عمر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملا عمر کا کہنا تھا کہ انہوں نے اسامہ سے ملنے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی تاہم وہ ان کی صحت اور سلامتی کے لیے دعاگو ہیں۔ بہت سے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسامہ کے افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے درمیان واقع پہاڑی سلسلے میں چھپے ہونے کا قوی امکان موجود ہے۔ رائٹرز کا کہنا ہے کہ اس نے محمد حفیف نامی شخص کے ذریعے ملا عمر سے سوالات پوچھے تھے جس کا جواب انہوں نے تحریری طور پر اس شخص کودیا۔ اس سے قبل ملا عمر نے اپنے ایک نشری پیغام میں پاک افغان رہنماؤں پر مشتمل قبائلی جرگہ کے قیام کی تجویز کو ایک ’چال‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔ عیدالاضحیٰ سے قبل اپنے جاری ہونے والے اس پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ دشمن شرمندہ اور بے عزت ہو کر اس خطے سے نکلے گا۔ افغانستان میں نومبر 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملا عمر روپوش ہیں اور ان کے سر کی قیمت دس ملین امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ | اسی بارے میں ملا عمر کا ’جہاد‘ کا نیا اعلان31 January, 2004 | آس پاس ملا عمرکو معافی کی پیشکش09 May, 2005 | آس پاس ’اسامہ اور ملا عمر زندہ ہیں‘15 June, 2005 | آس پاس شہریوں کو نشانہ نہ بنائیں: ملا عمر25 July, 2005 | آس پاس ملا عمر کو رابطے کی پیشکش09 January, 2006 | آس پاس اب ’ملا عمر‘ کا ٹیپ جاری25 June, 2006 | آس پاس تشدد میں اضافہ ہوگا:ملا عمر 23 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||