ملا عمرکو معافی کی پیشکش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے مصالحتی کمیشن نے ملا عمر اور گلبدین حکمت یار سمیت تمام جنجگوؤں کومعافی کی پیشکش کی ہے۔ افغانستان مصالحتی کمیشن کے سربراہ صبغت اللہ مجددی نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان کے تمام ایسے جنجگو جو افغانستان کے موجودہ آئین کو تسلیم کرتے ہو ئے ہتھیار پھینک دیں تو ان کو معافی مل سکتی ہے۔ صبغت اللہ مجددی نے کہا کہ یہ معافی طالبان لیڈر ملا عمر اور گلبدین حمکت یار سمیت تمام بڑے جنگجوؤں کو حاصل ہے بشرطیکہ کہ وہ موجودہ حکومت کو جائز تسلیم کریں اور اپنے آپ کو افغانستان کے آئین کے تحت تصور کریں۔ صبغت اللہ مجددی نے کابل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس معافی کا مقصد افغانستان میں امن بحال کرنا ہے۔ افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان کرنل جیمز یونٹس نے کہا ہے کہ وہ صبغت اللہ مجددی کی تجویز پر غور کر رہے ہیں لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایسے لوگ جو مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوں وہ اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہیں۔ افغان صدر حامد کرزئی کی حکومت کا موقف ہے کہ چھوٹی سطح کے طالبان لیڈروں کو معافی مل سکتی ہے لیکن بڑوں کو نہیں۔ سقبت اللہ مجددی نے کہا کہ ان کا کمیش آزاد ہے اور انہوں نے یہ معافی کی پیشکش افغانستان میں امن بحال کرنے کے لیے کی ہے۔ انہوں نے کہا ان کا ملا عمر اور گلبدین حکمت یار سے کوئی رابطہ نہیں ہے لیکن ان کو معلوم ہے کہ وہ غاروں میں رہ رہ کر تنگ آ چکے ہیں اور پر امن طور رہنے چاہتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||