| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان متحرک، امداد درکار: کرزئی
افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ افغانستان میں روز بروز بگڑتی ہوئی صورتحال کے مدنظر انہیں بین الاقوامی برادری کی حمایت کی درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالات کو بہتر بنانے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ جنوبی انگلینڈ کے شہر بورنمتھ میں لیبر پارٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حامد کرزئی نے کہا کہ دو سال قبل افغانستان میں اقتدار سے برطرف کیے جانے والے طالبان اب بھی متحرک ہیں۔ انہوں نے کہا: ’طالبان اب بھی متحرک ہیں۔ دہشت گردی اب بھی ہمارے لئے خطرہ بنی ہوئی ہے۔‘ حالیہ دنوں میں حامد کرزئی کے حامیوں اور امریکی فوجیوں پر حملے ہوئے ہیں۔ افغان صدر کا کہنا تھا کہ قانون ملک کے صرف پینتالیس فیصد حصے میں نافذ ہے اور دیگر علاقوں میں مسلح افراد سرگرم ہیں۔
حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ ان مشکلات کے باوجود گزشتہ دو برسوں میں حالات بہتر ہوئے ہیں اور ’آج بیالیس لاکھ افغان بچے اسکولوں میں زیرتعلیم ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ان میں سے چالیس فیصد لڑکیاں ہیں۔ انہوں نے اجلاس کے مندوبین کی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ’ہم قومی اداروں کی کی تعمیر کررہے ہیں اور افغان فوج اور افغان کرنسی کے قیام میں کافی پیش رفت آئی ہے۔‘ حامد کرزئی نے صدام حسین کو اقتدار سے برطرف کرنے کے لئے امریکہ اور برطانیہ کی حمایت کی۔ ’مجھے امید ہے کہ جلد ہی عراقی اپنی حکومت قائم کرسکیں گے۔ میں ان کے لئے آزادی، آزادئ صحافت، سیاسی جماعتیں، نتخابات اور حق خود ارادیت کا متمنی ہوں۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||