| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان کمانڈر ہلاک؟
امریکی اور افغان فوجیوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں مشتبہ طالبان کے ایک اہم رہنما حافظ عبدالرحیم مبینہ طور پر ہلاک ہو گئے ہیں۔ افغان حکام کے مطابق حافظ رحیم گزشتہ ایک سال سے جنوبی افغانستان کے علاقوں میں تشدد کی کاروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ پاک افغان سرحد کے قریب معروف کے علاقہ میں مشتبہ طالبان کی امریکی اور افغان فوجیوں کے ساتھ زبردست جھڑپ ہوئی ہے۔ اس جھڑپ میں تین مشتبہ طالبان کی ہلاکت کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ سپن بولدک میں حفاظتی امور کے اہلکار عبدالرزاق نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے مشتبہ طالبان کی تعداد کہیں زیادہ ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ قندھار میں سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ جھڑپ اتوار اور پیر کی درمیانی رات ہوئی جس میں تین مشتبہ طالبان ہلاک ہوئے ہیں جبکہ افغان فوجیوں نے ایک مشتبہ طالب کو زندہ گرفتار کیا ہے جس نے حافظ عبدالرحیم کی شناخت کی ہے۔ یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کے جنوبی افغانستان کے محتلف علاقوں میں گزشتہ کئی روز سے جھڑپیں جاری تھیں جس میں امریکی بھی حصہ لیتے رہے ہیں۔ گزشتہ جھڑپ میں تین افغان فوجی بھی ہلاک بتائے گئے ہیں لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ حافظ عبدالرحیم کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ گزشتہ ایک سال سے جنوبی افغانستان کے علاقوں سپن بولدک، اوروزگان، قندھار، زابل اور لوے کاریز میں سرگرم تھے اور افغان حکام نے متعدد پر تشدد کاروایئوں کی ذمہ داری حافظ رحیم پر ڈالی تھی۔ قندھار سے ذرائع نے بتایا ہے کہ کچھ روز قبل حافظ رحیم کو امریکی فوجیوں نے گرفتار بھی کر لیا تھا لیکن اس کو کوئی شناخت نہیں کر پایا لہذا اس کو رہا کر دیا گیا تھا۔ معروف کا علاقہ سابقہ ادوار میں مجاہدین کا گڑھ رہا ہے اور موجودہ طور پر مشتبہ طالبان اسی علاقے میں روپوش ہیں۔ یہ علاقہ پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے جہاں بڑے بڑے پہاڑی سلسلے ہیں۔ حافظ رحیم کے بارے میں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ یہ نورزئی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور لوئے کارئز کے علاقے کے رہنے والے تھے۔ حافظ رحیم افغانستان پر روسی حملے کے وقت مجاہدین کے ایک اہم کمانڈر تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |