BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 December, 2003, 15:47 GMT 20:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیان غیر مصدقہ تھا، کرزئی
افغان صدر حامد کرزئی
افغان صدر حامد کرزئی بی بی سی اردو سروس کے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں سننے والوں کے سوالوں کے جواب دے رہے ہیں

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ ان کا ملا عمر کی کوئٹہ میں موجودگی سے متعلق بیان غیر مصدقہ تھا۔

بی بی سی اردو سروس کے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں سننے والوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے پاکستان پر یہ الزام نہیں لگایا کہ وہ ملا عمر کو پناہ دے رہا ہے۔

مسٹر حامد کرزئی نے کہا کہ جب بھی اخبار نویس ان کے پاس آتے ہیں تو ان سے طالبان اور القاعدہ کے مفرور ارکان کے بارے سوال کرتے ہیں، اس دن جب بھی ہم سے پوچھا گیا کہ ملاعمر کہاں ہے تو میں نے ایک تازہ رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ اسے کوئٹہ میں دیکھا گیا ہے۔

مسٹر حامد کرزئی نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی اس بات پر اصرار نہیں کیا کہ وہ رپورٹ سچ ہے۔

القاعدہ کے رہنماء اسامہ بن لادن کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے افغان صدر نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں موجود ہیں۔

’جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے، ہمیں نہیں پتا کہ وہ کہاں ہیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسامہ بن لادن زندہ ہیں یا نہیں تو انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والے وڈیو بیانات سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ اسامہ بن لادن زندہ ہیں لیکن اس بات کوئی ثبوت نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔

افغانستان اور کیوبا میں قید پاکستانیوں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان قیدی جن پر دہشت گردی کے الزام نہیں ہیں ان کو پہلے ہی سے رہا کیا جا رہا ہے۔

مسٹر کرزئی نے کہا کہ عیدالفطر کے موقع پر بھی پچاس پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گونتانامو کے حراستی مرکز میں قید پاکستانیوں کی معاملہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ ان قیدیوں کو چھوڑنا چاہے تو افغانستان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔

پاکستان پر مبینہ الزام تراشیوں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بیس سال تک افغانوں کی مہمان نوازی کی ہے اور افغان احسان فراموش نہیں ہیں۔

مسٹر کرزئی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان نے مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لیا ہے جو دونوں ملکوں کو نقصان پہنچا رہی تھی۔

افغان صدر نے غزنی میں امریکی بمباری سے نو بچوں سمیت دس افراد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بمباری سے پہلے افغان حکومت سے رابطہ نہیں کیا گیا۔

’جب ہمیں بمباری کی خبر ملی تو ہم نے امریکی حکام سے رابطہ کیا اور ان کو اپنے جذبات سے آگاہ کیا۔ امریکی سفیر زلمے خلیل زاد اور دو جرنیلوں نے غزنی جا کر لوگوں سے معذرت کی ہے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔‘

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد