حکمت عملی تبدیل کریں گے: طالبان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں طالبان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ دارالحکومت کابل پر اپنے حملوں میں تیزی لا کر اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لا رہے ہیں۔ طالبان کے ایک ترجمان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کہ نیٹو کی افواج نے طالبان کی صفوں میں گھس کرکے ان کے کچھ کمانڈروں کو ہلاک کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ طالبان کی طرف سے خود کش حملہ آوور رضاکاروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ افغان وزیر دفاع جنرل عبدالرحیم وردگ نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کابل کو باقی ملک سے کاٹنے میں ناکام رہے ہیں۔ طالبان نے کہا انہوں نے گزشتہ اتوار کو کابل میں ایک پولیس بس پر حملہ کیا تھا جس میں چوبیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ کابل پر طالبان کا قبضہ ختم ہونے کے بعد سے سب سے جان لیوا حملہ تھا اور گزشتہ ایک سال میں پولیس کی بسوں پر یہ چوتھا حملہ تھا۔ بدھ کو ملک کے جنوبی صوبے قندہار میں سڑک کے کنارے نصب بم کے پھٹنے سے نیٹو کی فوج میں شامل چار کنیڈین فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ طالبان کے مطابق یہ کارروائی انہوں نےکی تھی۔ افغانستان میں اب تک ہلاک ہونے والے کنیڈین فوجیوں کی تعداد ساٹھ ہو گئی ہے۔ | اسی بارے میں قندھار کے ضلع پر طالبان کا قبضہ19 June, 2007 | آس پاس میانی شین ضلع طالبان سے لےلیاگیا20 June, 2007 | آس پاس کرزئی کے جلسے پر راکٹ حملہ10 June, 2007 | آس پاس طالبان: تین افغانیوں کو پھانسی01 April, 2007 | آس پاس ’طالبان حملوں میں شدت کا خدشہ‘16 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||