قندھار کے ضلع پر طالبان کا قبضہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کئی روز سے جاری گھمسان کی جنگ کے بعد طالبان نے افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار کے ایک ضلع پرقبضہ کر لیا ہے جبکہ ارزگان سے ’درجنوں‘ عام شہریوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ افغانستان کی سرکاری افواج کے مطابق انہوں نے فوجی حکمت عملی کے تحت میانی شن ضلعے سے اپنی فورسز پیچھے ہٹائی ہیں۔ ہمسایہ ارزگان صوبے سے درجنوں افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ مقامی عہدیداران کے مطابق ساٹھ عام شہری ہلاک ہوئے ہیں لیکن نیٹو کے افسران اس کی تردید کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک شخص اس وقت زخمی ہوگیا جب وہ ملک میں امریکہ کے سب سے بڑے فوجی ٹھکانے کے باہر ایک بم نصب کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
امریکہ کی زیر قیادت اتحادی افواج کے ترجمان اور وزارت داخلہ کےمطابق بم کے اچانک پھٹ جانے کی وجہ سے یہ شخص زخمی ہوگیا اور اب افغان پولیس کی تحویل میں ہے۔ قندھار پولیس کے سربراہ جنرل عصمت اللہ علی زئی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ میانی شن صوبے پر طالبان کا قبضہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فورسز ایک حکمت عملی کے تحت علاقے سے پیچھے ہٹی ہیں اور جلدی ہی دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیں گی۔ طالبان کے ایک ترجمان کے مطابق انہوں نے چار روز کی لڑائی کے بعد مانی شن اروزگان کے چھورا ضلع میں بھی تین روز سے لڑائی جاری ہے۔ صوبائی ہسپتال میں اطلاعات کے مطابق ہسپتال میں تمام زخمیوں کے علاج کی گنجائش نہیں ہے جبکہ جس علاقے میں لڑائی ہورہی ہے، وہاں مزید زخمی پڑے ہوئے ہیں۔ صوبائی کونسل کے سربراہ مولوی حمد اللہ نے صدر حامد کرزئی سے ہیلی کاپٹرز بھیجنے کی اپیل کی ہے تاکہ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جاسکے۔ ان کے مطابق لڑائی میں ساٹھ عام شہری ،تیس طالبان اور سترہ افغان فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں طالبان کا ایک اہم کمانڈر بھی بتایا جاتا ہے۔ لیکن نیٹو افواج کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کسی عام شہری کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ ان کے مطابق ساٹھ طالبان اور ہالینڈ کا ایک فوجی مارا گیا ہے۔ اروزگان کے پولیس سربراہ کے مطابق مرنے والے عام شہریوں اور افغان فوجیوں کی تعداد اتنی نہیں جتنا کہ ملا حمداللہ نے بتائی ہے لیکن ان کے مطابق پینسٹھ طالبان مارے گئے ہیں۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی بمباری میں کچھ عام شہری مارے گئے ہیں۔ گزشتہ برس طالبان کی فورسز نے چھورا ضلع پر قبضہ کر لیا تھا لیکن سرکاری افواج نے چند ہی دن میں دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا۔ نامہ نگاروں کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں طالبان نے وقتاً فوقتاً کئی علاقوں پر قبضہ کیاہے لیکن ان میں سے صرف ایک پر وہ اپنا کنٹرول قائم رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’طالبان حملوں میں شدت کا خدشہ‘16 May, 2007 | آس پاس ہلمند میں دسیوں طالبان ہلاک31 May, 2007 | آس پاس کرزئی کے جلسے پر راکٹ حملہ10 June, 2007 | آس پاس خودکش حملے میں چھ بچے ہلاک15 June, 2007 | آس پاس باجوڑ میں ’طالبان‘ سڑکوں پر 18 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||