افغانستان، ہلاکتوں پر غُصّہ جائز:نیٹو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیٹو نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کی طرف سے شدید تنقید کے بعد کہا ہے کہ انہیں افغانستان میں اپنی کارروائیوں کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعات ختم کرنے ہوں گے۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے بین الاقوامی افواج پر طالبان مخالف کارروائیوں میں افغانستان کی ایجنسیوں کے ساتھ رابطہ نہ رکھنے کا الزام لگایا تھا جو ان کے خیال میں شہریوں کی ہلاکت کی وجہ بن رہا ہے۔ نیٹو کے ایک ترجمان نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکتوں پر صدر کرزئی ’مایوس اور برہم‘ ہونے میں حق بجانب ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سال رواں کے دوران غیر ملکی افواج کی کارروائیوں کے دوران مزاحمت کاروں کی کارروائیوں سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔گزشتہ ہفتے میں نوے افغان شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ افغانستان کے علاوہ پاکستانی فوج نے بھی شکایت کی ہے کہ افغانستان سے ’اتحادی فوج‘ کی جانب سے فائر کیے گئے راکٹوں سے نو شہریوں کی جانیں گئی ہیں۔ فوج کے ترجمان نے اس واقعے کی وضاحت طلب کی ہے۔ صدر کرزئی نے ایک پریس کانفرنس کو بتایا: ’ہمارے معصوم لوگ غیرذمہ دارانہ کارروائیوں کا شکار ہورہے ہیں۔‘ افغانستان میں اس وقت دو فوجی مشن تعینات ہیں۔ ایک مشن امریکہ سمیت سینتیس ممالک پر مشتمل ہے اور نیٹو کے تحت کام کرتا ہے۔ اس میں سینتیس ہزار فوجی شامل ہیں۔ دوسرا مشن امریکہ کے تحت انسداد دہشت گردی کے لیے کام کرتا ہے۔ افغان صدر نے کہا کہ ان کا ملک عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے اور افغانوں کے مدد کے لیے شکرگزار بھی ہے ’لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ افغانوں کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں۔‘ جمعہ کو نیٹو نے اعلان کیا کہ صوبہ ہلمند میں پچیس سویلین ہلاکتوں کی تحقیقات کی جائیں۔ |
اسی بارے میں ’امریکی فرینڈلی فائر، 7 افغان ہلاک‘12 June, 2007 | آس پاس افغانستان:حملے میں سات بچے ہلاک18 June, 2007 | آس پاس تین روزہ لڑائی میں سو افراد ہلاک19 June, 2007 | آس پاس افغان خواتین، خوف اور جبر کی فضا20 June, 2007 | آس پاس طالبان خطرہ نہیں: کرزئی21 June, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||