افغانستان میں عراقی حربے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انتہائی الرٹ کی کال کے بعد امریکی طبی عملہ ایک زمین پر اترتے ہوئے ہیلی کاپٹر کی طرف بھاگ رہا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر افغانستان کی جنگ میں زخمی ہونے والے ایک فوجی کو لے کر آیاہے۔ یہ جنگ جو تیزی سے اپنی شکل بدلتی جا رہی ہے۔ فوجی کو سٹریچر پر لٹا کر پاکستان کی سرحد کے نزدیک خوست کے فیلڈ ہسپتال میں لے جایا گیا ہے۔ زخمی ہونے والے کا نام سٹاف سارجنٹ کین ونگر ہے اور ان کے پاؤں کی ہڈیوں کے سڑک کے کنارے نصب کیے گئے ایک بم کی وجہ سے پرخچے اڑ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ان کی گاڑی کے ٹائر سڑک کے کنارے لگے بم پر چڑھ گئے تو انہوں نے دیکھا کہ یکدم ایک دھماکے کے بعد ان کی گاڑی کے شیشوں کے باہر اندھیرا چھا گیا۔ ’میں اپنے ٹرک سے باہر نکلا، میرے گنر اور میرے ڈرائیور نے چلا کر مجھے بتایا کہ وہ ٹھیک ہیں اور میں نے بھی کہا کہ میں ٹھیک ہوں۔ لیکن میرا پاؤں زخمی تھا۔ میں نے دیکھا کہ میرے ہموی (ٹرک) کا اگلا پہیہ کوئی سو میٹر دور جا گرا تھا۔‘ جو ڈاکٹر سٹاف سارجنٹ ونگر کی دیکھ بھال کر رہے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ ’سارجنٹ کے لیے جنگ اب تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ ان کے پاؤں کو ٹھیک ہوتے مہینے لگیں گے۔ وہ کبھی تیز دوڑ نہیں سکیں گے اور نہ ہی وہ زیادہ وزن اٹھا سکیں گے۔‘
طالبان کی پروپیگنڈا فلم میں اس طرح کے حملے کو دکھایا گیا ہے جس میں ونگر کی گاڑی جیسی ایک گاڑی تباہ ہوئی ہے۔ فلم میں دکھایا گیا کہ ہموی ایک سنسان سڑک پر جا رہی ہے۔ ایک دم دھماکہ ہوتا ہے، اوپر بیٹھا گنر ایک دم ہوا میں اڑتا ہے اور سات ٹن وزنی ہموی پیچھے کی طرف لڑھک جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ طالبان اب عراق میں استعمال کیے جانے والے حربے استعمال کر رہے ہیں۔ اور اب زیادہ خطرناک ہوتے جا رہے ہیں۔ پروپیگنڈا فلم میں نقاب پوش افراد کو گھریلو ساخت کا فٹ بال جتنا بڑا بم بناتے دکھایا گیا ہے۔ اس بم میں اتنی طاقت ہے کہ یہ ایک بکتر بند گاڑی کو اڑا سکتا ہے۔ امریکیوں کی فائر پاور کو سامنے کھڑے ہو کر مقابلہ کرنے کی بجائے طالبان ان چیزوں اور جگہوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو بالکل واضح اور صاف نظر آتی ہیں جیسا کہ پولیس سٹیشن، سرکاری عمارتیں وغیر وغیرہ۔
جب ہم امریکیوں کے ساتھ گشت پر نکلے ہوئے تھے ایک خودکش بمبار نے ایک پولیس چیک پوسٹ پر خود کو اڑا دیا۔ کچھ پولیس والے زخمی ہو گئے جبکہ لاری ڈرائیور ہلاک ہو گیا۔ خوست میں پولیس نے ہمیں ایک جیکٹ دکھائی جو ایک نوجوان لڑکا خود کش حملے میں استعمال کرنے والا تھا۔ اس میں تار لگے ہوئے تھے اور وہ استعمال کے لیے بالکل تیار تھی۔ اس میں تیس کلو گرام دھماکہ خیز مواد بھرا ہوا تھا۔ مبینہ طور پر خود کش حملے کے لیے آنے والے کو پاکستان کے ایک مدرسے سے خود کش مشن کے لیے بھیجا گیا تھا۔ اس لڑکے کی عمر چودہ سال تھی۔ اس نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ افغانستان میں کافر بھرے پڑے ہیں۔ ’اگر ہم شہید ہو جائیں گے تو سیدھا جنت میں جائیں گے۔ وہاں وہ سب کچھ ہمیں مل سکے گا جو ہم چاہیں گے۔‘ تاہم رفیق کے لیے کوئی جنت تو نہیں بس شرمندگی ہی ہے۔ کیونکہ اس کے ساتھ ہی وہ صاحب بیٹھے ہوئے ہیں جو اس کا نشانہ بننے والے تھے۔ یہ ہیں خوست کے گورنر ارسلا جمال۔ ارسلا اس سے قبل تین مرتبہ خود کش حملوں کی زد سے بچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے اس لڑکے پر رحم آتا ہے۔‘ اس سال افغانستان میں پچاس امریکی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اور ہر ہلاکت کے ساتھ اتحاد کی قوت میں کمی آ جاتی ہے۔ |
اسی بارے میں حکمت عملی تبدیل کریں گے: طالبان21 June, 2007 | آس پاس ہلمند فضائی حملہ ’25 شہری ہلاک‘ 22 June, 2007 | آس پاس طالبان خطرہ نہیں: کرزئی21 June, 2007 | آس پاس میانی شین ضلع طالبان سے لےلیاگیا20 June, 2007 | آس پاس تین روزہ لڑائی میں سو افراد ہلاک19 June, 2007 | آس پاس درجنوں افغان پولیس اہلکار ہلاک17 June, 2007 | آس پاس ’امریکی فرینڈلی فائر، 7 افغان ہلاک‘12 June, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||