ہلمند فضائی حملہ ’25 شہری ہلاک‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں صوبہ ہلمند کے سینیئر پولیس اہلکاروں اور مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ غیر ملکی فوجوں کی فضائی بمباری سے کم و بیش پچیس شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ نیٹو کی قیادت میں لڑنے والی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ مزاحمت کاروں کے ہاتھوں کچھ شہری مارے گئے ہوں۔ اس ہفتے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صدر حامد کرزئی نے کہا تھا کہ غیر ملکی فوجوں کے ہاتھوں شہریوں کی اموات کا سلسلہ ختم ہونا چاہیئے۔ صدر کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو افغان ان ملکوں کے خلاف ہو جائیں گے جن کی فوجیں یہاں موجود ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ لوگ ابھی تک ان ممالک کے ممنون ہیں۔ جنوبی افغانستان میں گرشک کے قصبے کے گاؤں آدم خان کے رہائشیوں نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ شہریوں کی اموات شدید فضائی بمباری کے نتیجے میں ہوئیں۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ مارے جانے والوں میں نو عورتیں اور تین بچے بھی شامل ہیں۔ مرنے والوں کی اس تعداد کی تصدیق پولیس کے ضلعی سربراہ محمد حسین اندیوال نے بھی کی ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں موجود ان کی ٹیم نے اموات کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’گزشتہ رات تقریباً ڈیڑھ بجے نیٹو افواج نے گاؤں پر بمباری کی جس کے نتیجہ میں پچیس افراد مارے گئے۔ ان میں عورتیں، چھ سے دس ماہ کے تین بچے، ایک امام مسجد اور کچھ بوڑھے لوگ شامل ہیں۔ محمد حسین اندیوال نے الزام لگایا کہ غیر ملکیوں نے گاؤں پر بمباری اپنے افغان ساتھیوں سے مشورے کے بغیر کی ہے۔ کابل میں نیٹو کی قیادت میں کام کرنے والی امن فوج (ایساف) کے ایک ترجمان نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ بمباری میں لوگ مارے گئے ہیں تاہم انہیں یہ نہیں پتہ کہ مرنے والے عام لوگ تھے۔ ترجمان کے بقول وہ اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں۔ ایساف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جمعرات کی رات گرشک کے قریب ان کی فوجیوں پر حملہ کیا گیا جس کے جواب میں انہوں نے ہلکے ہتھیار استعمال کیے اور فضا سے بمباری بھی کی۔ بیان کے مطابق تیس کے قریب مزاحمت کاروں نے ایک عمارت پر قبضہ کر لیا تھا اور یہ کہ ان میں سے زیادہ تر کو بعد میں ہلاک کر دیا گیا۔ ایساف کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ’جو چند شہری زخمی یا ہلاک ہوئے ہیں‘ وہ مزاحمت کاروں کی گولیوں سے ہوئے یا فوجی کارروائی کا نشانہ بنے ہیں۔ ہلمند کے پڑوسی صوبے ارزگان میں غیرملکی فوجوں کے ترجمان کا کہنا تھا کہ لگتا ہے کہ گزشتہ دنوں کی لڑائی میں شہری مارے گئے ہیں اور ان میں سے کچھ ہلاکتیں وہ ہو سکتی ہیں جو طالبان کو نشانہ بناتے وقت ہو گئی ہوں۔ واضح رہے کہ افغانستان میں دو قسم کی غیر ملکی فوجیں ہیں۔ ان میں سے ایک نیٹو کی انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) ہے جو امریکہ سمیت سینتیس ممالک سے لیے گئے سینتیس ہزار فوجیوں پر مشتمل ہے۔ اس کا مقصد سکیورٹی، ترقیاتی کاموں اور حکومت میں بہتری لانے میں افغان حکومت کی معاونت کرنا ہے۔ دوسری غیر ملکی فوج امریکی قیادت میں کام کرنے والی سپیشل فورسز پر مشتمل ہے جس کا بنیادی کام دہشتگردی کا قلعہ قمع کرنا ہے۔ تشدد اور ہلاکتوں کے لحاظ سے افغانستان کے جنوبی علاقے کے لیےگزشتہ ایک سال بہت برا رہا ہے۔ |
اسی بارے میں درجنوں افغان پولیس اہلکار ہلاک17 June, 2007 | آس پاس افغانستان:حملے میں سات بچے ہلاک18 June, 2007 | آس پاس میانی شین ضلع طالبان سے لےلیاگیا20 June, 2007 | آس پاس واپسی لیکن خوشی سے نہیں20 June, 2007 | آس پاس قندھار کے ضلع پر طالبان کا قبضہ19 June, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||