BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خشک سالی سے مرتے افغان بچے

ملک میں تشدد آمیزی میں اضافے نے قدرتی آفات سے توجہ ہٹادی ہے
افغانستان میں دن بدن تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات نے لوگوں کی توجہ قدرتی آفات سے ہٹا دی ہے۔ تاہم ملک کی خشک سالی اپنی جگہ موجود ہے اور بے شمار مشکلات کا باعث ہے۔

گزشتہ ہفتے مغربی افغانستان کے ایک گاؤں کے قبرستان میں لوگ تین بچوں کو دفنانے جمع تھے جو بھوک کے باعث موت کے منہ میں چلے گئے۔

تینوں کی موت ایک ہی دن ہوئی۔ خوراک میں قلت اس خشک سالی کی پیدا کردہ ہے جس نے مغربی، شمالی اور جنوبی افغانستان کو متاثر کیا ہے۔

کسی ڈاکٹر نے ان کی موت کی وجہ کی تصدیق نہیں کی۔ ان بچوں کے والدین اس قدر غریب تھے کہ ڈاکٹروں کے پاس لے جانے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔

40 سالہ جان بی بی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی تین ماہ کی بیٹی نازیہ کو صرف ابلا ہوا پانی اور چینی دے رہی تھیں کیونکہ ان کے پاس خوراک ختم ہوچکی تھی۔ ’میری بچی بھوک سے موت کا شکار ہوئی ہے۔ میں اسے خود دودھ پلانا چاہتی تھی لیکن میرے جسم میں بھی خوارک کی کمی ہے‘۔

جان بی بی کی دوسری جڑواں بیٹی مارضیہ خوراک کی کمی کے باعث اپنی عمر سے کم دکھائی دیتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ ابھی ایک نومولود بچی ہے۔ وہ ہر وقت خوراک کے لیئے روتی رہتی ہے۔

افغانستان
چھوٹے چھوٹے بچوں کو تین گھنٹے کی دوری سے پیدل پانی لانا پڑتا ہے

جان بی بی کا کہنا ہے ’ہمارا مستقبل تاریک ہے۔ ہمارے پاس نہ تو خوراک اور پانی ہے اور نہ ہی ایندھن۔ تازہ پانی لینے کے لیئے ہمیں میلوں پیدل چلنا پڑتا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم ہم کیسے زندہ بچیں گے‘۔

گاؤں والوں کے مطابق اس سال 50 بچے ایسے ہی حالات میں ہلاک ہوچکے ہیں۔

ہرات کے شہر سے ایک دن کی مسافت پر واقع سیا کمارک کے علاقے میں اس سال بارشوں کی کمی کے باعث گندم کی پوری فصل تباہ ہوگئی۔

امدادی ادارے کرسچن ایڈ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں کسانو ں کی 80 سے 100 فیصد فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق ملک کے تقریباً بیس لاکھ افراد کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق اس کے پاس مطلوبہ فنڈز کا صرف ایک تہائی موجود ہے۔

لوگ پچھلے سال کے بچے ہوئے آٹے، ابلے ہوئے آلو اور تھوڑی بہت روٹی پر گزارہ کررہے ہیں۔ موسم سرما میں کئی متاثرہ گاؤں کا رابطہ دیگر علاقوں سے کٹ جائے گا۔

چھ سال تک کی عمر کے چھوٹے بچوں کو تین گھنٹے کی دوری سے پیدل پانی لانا پڑتا ہے۔

افغانستان
اس مرتبہ صرف دو سال بعد ہی خشک سالی پیدا ہوگئی ہے

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہر 15 سے 20 سال بعد خشک سالی ہوا کرتی تھی لیکن اس مرتبہ صرف دو سال بعد ہی یہ صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے موسم سرما اتنا سرد نہیں ہوتا تھا جتنا کہ اب ہوتا ہے اور موسم گرما بھی اب پہلے سے زیادہ گرم ہوتا ہے۔

ملک کا جنوبی حصہ سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں برطانوی فوجی مزاحمت کاروں کے خلاف لڑ رہی ہیں۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ملک کے مغرب میں طالبان کا زیادہ اثر نہیں ہے پھر بھی لوگ لڑنے کے لیئے اس لیئے تیار ہوجاتے ہیں کہ وہ بے حد غریب ہیں۔ ان لوگوں کا مسئلہ زندہ رہنے کے لیئے خوراک حاصل کرنا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کی ساری توجہ مزاحمت کاروں پر ہے اور یوں قحط کا شکار لوگ نظر انداز ہورہے ہیں۔

کئی خاندانوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ انہیں اگلے وقت کا کھانا مل بھی سکے گے یا نہیں۔

ان لوگوں نے عالمی برادری سے مدد کی اپیل کی ہے۔ ’اگر ہماری مدد اب نہ کی گئی تو ہم مر جائیں گے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد