افغانستان میں سیلاب سے تباہی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں شدید بارش اور سیلاب سے بیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ بارش کے سبب امدادی کاموں میں بھی کافی دشواریوں کا سامنا ہے۔ شمالی صوبہ بدخشاں کے کئی اضلاع میں گزشتہ کئی روز کی بارش سے صورت حال انتہائی خراب ہوگئی ہے۔ متعدد علاقے سیلاب کی زد میں آ گئے ہیں۔ صوبہ کے گورنر منشی عبدالمجید نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اب تک کم از کم بیس افراد کے ہلاک ہونے کی خبر ملی ہے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے سینکڑوں مکان تباہ ہوگئے ہیں اور ایک بڑا علاقہ زیر آب آ گیا ہے۔ موسلا دھار بارش اور سیلابی پانی کے سبب طبی سہولیات پہنچانے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ گزشتہ سردیوں میں زبردست برفباری کے سبب پہاڑوں پر بڑی مقدار میں برف جمع ہے۔گرمی میں شدت آنے سے یہ برف پگھلے گي اور اس سے دریاؤں میں طغیانی آنے کا خطرہ ہے۔ اس ہفتے کے اوائل میں دو شمالی صوبے بلخ اور جوزجان میں سیلاب ک وجہ سے دو اہم شاہراہیں تباہ ہوگئي تھیں جس کے باعث ان دونوں صوبو ں کا دیگر ملک سے رابطہ ٹوٹ گیا تھا۔ گزشتہ کئی عشروں سے افغانستان خانہ جنگی اور اندرونی خلفشار کا شکار رہا ہے۔ اس کے سبب ملک میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے موثر ذرائع بھی میسر نہیں ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||