واپسی لیکن خوشی سے نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اکتیس سالہ اسلم خان پانچ سال کے تھےجب انہوں نےسابقہ سوویت یونین کے حملے کے نتیجے میں افغانستان سے پاکستان ہجرت کی۔ مگر اب وہ اپنے چھ بچوں کے ہمراہ ہجرت کی چھبیس سالہ زندگی کو الوداع کہہ رہے ہیں۔ لیکن کیا اسلم خان اپنی مرضی سے وطن واپس لوٹ رہے ہیں؟ ’ اگر مرضی چلتی تو میں کبھی بھی نہ جاتا۔ زبردستی ہورہی ہے اس لیے واپس جانا پڑ رہا ہے۔ہماری ساڑھے چار سو دکانیں گرادی گئیں ہیں اور کیمپ کے ارگرد سکیورٹی فورسز کو تعینات کردیا گیا ہے تاکہ ہم پاکستان کے دیگر علاقوں کے بجائے سیدھے افغانستان چلے جائیں۔‘ اسلم خان کی یہ کہانی پشاور کےگڑھی کیمپ میں آباد ساٹھ ہزار افغان مہاجرین کی کہانی ہے جنہیں حکومت پاکستان نے تیس جون تک کیمپ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ افغانستان میں امن و امان کی خراب صورتحال، گھروں کی عدم دستیابی، آبائی زمینوں پرجنگی کمانڈروں کا مبینہ قبضہ، بے روزگاری، مہنگائی، صحت اور تعلیم کی سہولیات کی عدم فراہمی وہ مشکلات ہیں جو ان مہاجرین کے وطن لوٹنےکی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ کیمپ خالی کرانے کے حکم کے بعد یہ مہاجرین چھوٹے موٹےکاروبار سے بھی محروم ہوگئے ہیں ۔
ٹیکیسی ڈرائیور شائستہ گل پہلوان کہتے ہیں:’میرے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔ ڈھائی لاکھ کی گاڑی میں نے ڈیڑھ لاکھ روپےمیں بیچ دی ہے۔اب روزگار کا واحد ذریعہ بھی چھن گیا ہے، بچوں کو کھلانے کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔‘ حکومت کا موقف ہے کہ پاکستان میں قائم کیمپوں کو انتہاپسندوں کی مبینہ سرگرمیوں میں اضافے کی وجہ سے بند کیا جا رہا ہے۔ افغان کمشنر عمران زیب اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ افغانوں کو زبردستی نکالا جارہا ہے۔ ’ان کیمپوں کو سکیورٹی کی ابتر صورتحال کی وجہ سے بند کیا جارہا ہے مگر ہم نے مہاجرین کے لیے چترال، دیر اور تیمرگرہ میں متبادل کیمپوں کا بندوبست کیا ہے، تاہم وہاں تاحال کوئی بھی افغان مہاجرمنتقل نہیں ہوا ہے۔‘ گزشتہ ستائیس سالوں میں افغانوں کی ایک نسل پاکستان میں پلی بڑھی۔یہ نوجوان نسل یہاں کے ماحول، کلچر، زبان سے اس قدر مانوس ہوگئی ہے کہ اس کے لیے پاکستان چھوڑنا اپنے ہی وطن کوچھوڑنے کے مترادف ہے۔ بیس سالہ محمد خیال کچھ انہیں جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔’ مجھے پاکستان سے بہت پیار ہے کیونکہ یہ میری جائے پیدائش ہے یہاں میرے بہت سے پاکستانی دوست ہیں۔ہم نے تعلیم یہاں پرحاصل کی ہے لہذا افغانستان جانے کو دل نہیں کرتا۔‘
دوسری طرف تیس اگست تک بند ہونے والے جلوزئی کیمپ کے تین ہزار خاندان پھراس خدشے کے پیش نظر واپس جانے سے انکار کررہے ہیں کہ افغانستان میں انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جائے گا۔ اس کیمپ کی آبادی ایک لاکھ نو ہزار ہے۔ کیمپ کے ایک سربراہ مولانا عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ حامد کرزئی کی حکومت میں وہ سابق کیمونسٹ افراد برسر اقتدار ہیں جن کے ساتھ انہوں نے جہاد کے دنوں میں لڑائیاں لڑی تھیں۔ ان کے بقول ’ہمیں یہ خوف لاحق ہے کہ اگر ہم واپس افغانستان چلےگئے تو وہاں پر مقامی سطح پر برسراقتدار کمیونسٹ دور کے سابق اہلکار القاعدہ اور دہشت گردوں کے نام پر ہمیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنائیں گے۔‘
طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے تین ملین سے زیادہ افغان وطن واپس جا چکے ہیں۔ پاکستان میں رہائش پذیر افغانوں میں زیادہ تر کا تعلق شورش زدہ جنوبی اور مشرقی علاقوں سے ہے ۔ چند روز قبل دوبئی میں پاکستان، افغانستان اور یو این ایچ سی آر کے سہ فریقی کمیشن کے اجلاس میں افغانستان نے پہلی مرتبہ اس بات کا اعتراف کیا تھاکہ وہ شورش زدہ علاقوں میں افغان مہاجرین کی مدد نہیں کر سکے گا۔ اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے ادرارے برائے مہاجرین کے ترجمان بابر بلوچ کا کہنا ہے کہ افغانستان نے اجلاس کے دوران یہ خدشہ ظاہر کیا کہ’افغانستان کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں جاری لڑائی کی وجہ سے افغان حکومت، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی اداروں کے لیے یہ ممکن نہیں ہےکہ پاکستان سے آئے ہوئے افغان مہاجرین کی مدد کرسکے۔‘ |
اسی بارے میں ’یہ سراسر ظلم ہے‘09 June, 2007 | آس پاس دلی: عراقی تارکین وطن کا احتجاج19 April, 2007 | انڈیا پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ19 June, 2007 | آس پاس مہاجرین کا عالمی دن اورافغان بچے 20 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||