ہرماہ 50 ہزارعراقی ملک چھوڑ رہے ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے ادارہ برائےمہاجرین کے اندازے کے مطابق ہر ماہ پچاس ہزار عراقی ملک میں امن عامہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے بچنے کے لیے ملک چھوڑ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نےامیر ملکوں سے اپیل کی ہے کہ عراق میں پیدا ہونے والے انسانی بحران سے نمٹنے کے مالی امداد کریں۔ منگل کے روز جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ساٹھ ملکوں کی کانفرنس ہو رہی ہے جس میں عراق میں جاری جنگ کی وجہ سے چالیس لاکھ بےگھر ہونے والے عراقیوں کی حالت زار پر غور کیا جائے گا۔ ایک اندازے کےمطابق ابھی تک چالیس لاکھ عراقی شہری بےگھر ہو چکے ہیں اور ان میں بیس لاکھ اردن، شام،مصر اور لبنان میں پناہ لے چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق 1948 میں اسرائیل کے وجود میں آنے کے وقت فلسطینوں کی بڑی پیمانے پر نقل مکانی کے بعد عراق میں سب سے بڑی نقل مکانی ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ چاہتا ہے کہ تمام امیر ملک، بلخصوص امریکہ اور یورپی یونین کو کھل کی مالی مدد کرنی چاہیے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عراق میں تشدد کی وجہ سے چالیس لاکھ لوگ بےگھر ہو چکے ہیں اور یہ ایک انسانی بحران سے کم نہیں ہے۔ | اسی بارے میں عراقی پناہ گزیں، امریکی منصوبہ15 February, 2007 | آس پاس عراقی پناہ گزینوں پر’دروازے بند‘22 January, 2007 | آس پاس شام میں لبنانیوں کا گرم جوش استقبال 10 August, 2006 | آس پاس سب کو پناہ نہیں دے سکتے: ہوورڈ 23 January, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||