 | | | ہر ماہ پچاس ہزار عراقی ملک چھوڑ رہے ہیں: اقوام متحدہ |
اقوام متحدہ نے اس امریکی منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت آئندہ ایک سال میں لگ بھگ سات ہزار عراقیوں کو امریکہ میں سیاسی پناہ دی جائے گی۔ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے رفیوجیز کے سربراہ انٹونیو گوئٹیریس نے اس امریکی منصوبے کو ’صحیح سمت میں بہت ہی اچھا قدم‘ قرار دیا ہے۔ چار سال قبل عراق میں شروع ہونے والی جنگ سے اب تک امریکہ نے صرف 463 عراقیوں کو سیاسی پناہ دی ہے۔ نئے منصوبے کے تحت سات ہزار عراقی تارکین وطن کو پناہ دینے کی پالیسی اہم سمجھی جارہی ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیموں نے امریکہ پر تنقید کی تھی کہ وہ کافی کم تعداد میں عراقی پناہ گزینوں کو سیاسی پناہ دے رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے عراقی پناہ گزینوں کو بسانے کے لیے ساٹھ ملین ڈالر کی امداد کی اپیل کی ہے۔ انٹونیو گوئٹیریس کا کہنا تھا کہ عراقی پناہ گزینوں کا مسئلہ اتنا بڑا ہے کہ جتنا بھی ان کے لیے کیا جائے کم ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق لگ بھگ 50000 عراقی ہر ماہ عراق سے نکلتے ہیں جبکہ اڑتیس لاکھ جنگ شروع ہونے سے اب تک ملک چھوڑ چکے ہیں۔ امریکی اہلکار عراقی تارکین وطن کی رواں سال میں انٹرویو لیں گے جو کہ تیس ستمبر کو ختم ہوگا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ اس عمل کے ذریعے کامیاب ہونے والے عراقی کب امریکہ پہنچیں گے۔ بیشتر عراقی رفیوجی شام اور اردن جاتے ہیں لیکن دونوں ملکوں نے اپنے دروازے بند کرنے کی پوری کوششیں کی ہیں۔ سات ہزار عراقی جنہیں امریکہ میں جگہ دی جائے گی پہلے سے ہی عراق سے باہر رہ رہے ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان سیان میک کورمیک نے کہا کہ سات ہزار کی تعداد ایک حد نہیں بلکہ ٹارگیٹ ہے۔ امریکی منصوبے کے تحت ان لوگوں کو خصوصی رعایت دی جائے گی جنہیں اس لیے فرقہ وارانہ تشدد کا سامنا ہے کہ انہوں نے امریکہ کو خفیہ معلومات فراہم کی ہے۔
|