BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 January, 2007, 13:18 GMT 18:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق تعمیراتی فنڈز میں ’بدعنوانیاں‘
عراق کی تعمیر نو میں امریکی کمپنیاں بھی کام کر رہی ہیں
امریکی ماہرین کی ایک آڈٹ رپورٹ کے مطابق عراق میں تعمیر نو کے نام پر مختص کیئے جانے والے کروڑوں ڈالر کے فنڈز ضائع ہورہے ہیں جن کی ایک بڑی مثال بغداد میں پولیس کیمپ میں بنایا جانے والا عالمی معیار کا سوئمنگ پول بھی ہے۔

امریکی آڈیٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں عراق کی تعمیر نو کے لیئے مہیا کیئے جانے والے فنڈز میں بڑے پیمانے پر خرد برد اور کرپش کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔

ہر تین ماہ بعد ہونے والے اس آڈٹ میں کہا گیا ہے بغداد میں پولیس کا ایک تربیتی مرکز بنایا گیا اور اس میں عالمی معیار کا ایک سوئمنگ پول بھی تعمیر کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ تربیتی کیمپ کبھی استعمال میں نہیں آیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تعمیر نو کے لیے مختص اربوں ڈالر ابھی تک زیر استعمال نہیں لائے جا سکے ہیں۔

یہ رپورٹ ایک ایسے موقع پر منظر عام پر آئی ہے جب بش انتظامیہ کانگرس سے عراق کی تعمیر نو کے لیے ایک عشاریہ دو ارب ڈالر مزید مختص کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔

عراق میں جنریٹرز کی فروخت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔

عراق کی تعمیر نو کے سپیشل انسپیکٹر جنرل سٹورٹ بوؤن کی حالیہ رپورٹ کانگرس کو عراق کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً پیش کی جانے والی تازہ ترین رپورٹ ہے۔

تقریباً پانچ سو اسی صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں جس کو بدھ کو باقاعدہ طور پر پیش کیا جانے والا ہے کہا گیا ہے کہ عراق میں بدامنی ہر شعبے میں تعمیر نو کے لیے کیئے جانے والے اقدامات کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔

آڈیٹرز نے عراق کی موجودہ حکومت کے فنڈز استعمال کرنے کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

عراق کی تعمیر نو
 سن دو ہزار تین کے بعد سے تعمیراتی فنڈ کے استعمال کرنے کی ترجحیات تبدیل ہو گئی ہیں اور اب جمہوریت اور سیکیورٹی پر زیادہ پیسہ خرچ کیا جارہا ہے اور تعمیراتی منصوبوں کو نسبتاً کم فنڈز دیئے جا رہے ہیں۔
آڈٹ رپورٹ

بدعنوانی کی نشاندہی کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی حکام نے تین کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر بکتر بندگاڑیاں، زرہ اور مواصلات کے آلات خریدنے پر خرچ کیئے لیکن ان کا حساب نہیں ملا سکا کیونکہ رسیدیں مبہم تھیں اور ان کے علاوہ بھی کوئی دستاویز مہیا نہیں کی جا سکی۔

ڈیموکریٹ ارکان جن کی اب کانگرس میں اکثریت ہے عراق میں تعمیر نو کے نام پر مزید فنڈ مہیا کرنے کے بارے میں تشویش کا شکار ہیں۔

رپبلکن ہینری ویکسمین آئندہ ہفتے عراق میں فنڈز کے ضائع ہونے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سن دو ہزار تین کے بعد سے تعمیراتی فنڈ کے استعمال کرنے کی ترجحیات تبدیل ہو گئی ہیں اور اب جمہوریت اور سیکیورٹی پر زیادہ پیسہ خرچ کیا جارہا ہے اور تعمیراتی منصوبوں کو نسبتاً کم فنڈز دیئے جا رہے ہیں۔

بجلی کی فراہمی جنگ سے قبل کے معیار تک نہیں آسکی ہے لیکن اس کے باوجود بجلی اور پانی کی فراہمی کے منصوبوں کے لیے مہیا کیئے جانے فنڈز میں پچاس فیصد کمی کر دی گئی ہے۔

اس رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ، جیلوں اور پولیس نظام کو بہتر بنانا عراقی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔

امریکی حکومت نے ان شعبوں پر اربوں ڈالر خرچ کیئے ہیں لیکن اس میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
او

اسی بارے میں
عراق میں 300 سے زائد ہلاک
29 January, 2007 | آس پاس
لبنان کے لیے سات ارب ڈالر
25 January, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد