BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 January, 2007, 02:41 GMT 07:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق میں 300 سے زائد ہلاک
تازہ ترین
نجف کے نواح میں ہونے والی لڑائی میں امریکی ٹینکوں اور ہیلی کاپٹروں نے بھی حصہ لیا
عراق میں پولیس کا کہنا ہے کہ نجف کے شمال میں عراقی و امریکی فوجیوں کے ساتھ لڑائی میں دو سو پچاس مزاحمت کار ہلاک ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ اتوار ہی کو اس سے قبل سات بچے اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کے سکولوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سے پانچ بچیاں اس وقت ہلاک ہوئیں جب ان کے سکول پر ایک گولہ آ گرا جبکہ دوسرے دو بچے رمادی میں ایک پرائمری سکول پر کیے جانے والے بم حملے کے دوران ہلاک ہوئے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہو سکاہے کہ سکولوں کو کس نے نشانہ بنایا تاہم یہ سکول اُس علاقے میں واقع ہیں جہاں شیعہ اور سنی دونوں گروپوں کے شدت پسند حملے کرتے رہتے ہیں۔

رمادی کا پرائمری سکول اس وقت بم دھماکے کا نشانہ بنا جب ایک ٹرک سوار خود کش بمبار سکول کے قریب واقع امریکی فوج کے اڈے سے ٹکرایا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پولیس ذرائع سے منسوب ایک خبر میں بتایاہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو سو پچاس سے زیادہ ہے۔

ایک اور خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے ایک عراقی پولیس اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ نجف کے نواح میں ہونے والی لڑائی میں امریکی ٹینکوں اور ہیلی کاپٹروں نے بھی حصہ لیا۔ بتایا گیا ہے کہ نجف کے نواح اور زرقا میں ہونے والی لڑائی کےدوران تین عراقی فوجی ہلاک اور اکیس زخمی ہوئے ہیں۔

امریکی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے دو فوجی اس وقت ہلاک ہوگئے جب اس کے ہیلی کاپٹر کو مار گرایا گیا۔ تاہم امریکی فوجیوں نے ہلاک ہونے والے عراقی فوجیوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

بغداد کے نواح میں ایک بچی اس سکول کی ان سیڑھیوں کے پاس سے گزر رہی ہے جن پر حملے کا نشانہ بننے والی بچیوں کا حون بہہ رہا ہے

اس سے قبل گورنر نجف کے دفتر سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ کہ مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپ میں اکیس عراقی فوجی ہلاک ہو ئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب عراقی فوجی زرقا میں مزاحمت کاروں کے خلاف کارروائی کر رہے تھے۔

نام ظاہر نہ کرنےوالے ایک عراقی کا کہنا ہے کہ زرقا میں مزاحمت کرنے والوں کا تعلق سپاہِ بہشت نامی گروہ سے ہے جبکہ رائٹرز نے سیاسی ذرائع کے حوالے سے بتایاہے کہ مزاحمت کاروں میں بظاہر شیعہ اور سنی دونوں فرقوں سے تعلق رکھنے والے شامل ہیں اور وہ ایک مذہبی رہنما آیت اللہ سید احمد بغدادی کے حامی بتائے جاتے ہیں۔

نجف کے گورنر اسد ابو جلیل نے بتایا ہے کہ جس گروہ کے خلاف کارروائی کی گئی ہے وہ انتہائی مسح تھا اور اس کے پاس طیارہ شکن میزائل تک تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ عاشورہ پر شیعہ علماء اور زائرین کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

رائٹرز نے ایک افسر کرنل علی کے حوالے سے بتایا کہ لڑائی رات گئے تک جاری تھی۔

عراقی پولیس نے بتایا کہ بغداد میں اور اس کے گرد سے چون افراد کی لاشیں ملی ہیں جن کی شناخت نہیں ہو سکی۔ سنیچر کے روز بھی چالیس افراد کی لاشیں ملی تھیں۔

بغداد اور کرکوک میں ہونے والے تین دیگر واقعات میں تیرہ افراد ہلاک ہوئے ئے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عراق میں ہر روز تقریباً سو افراد تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔

اسی بارے میں
عراق میں کب کیا ہوا؟
28 January, 2005 | آس پاس
نجف میں دھماکہ دس ہلاک
06 April, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد