BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 January, 2007, 14:12 GMT 19:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراقی پناہ گزینوں پر’دروازے بند‘
پناہ گزین بچہ
عراق کے ہزاروں پناہ گزیں بچے سکول بھی نہیں جا پاتے
عراق میں امدادی کارکنوں نے عراق سے باہر جانے والے پناہ گزینوں کے بڑھتے مسائل کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ عراق کے پڑوسی ممالک اب ایک ایک کر کے ان پر اپنے دروازے بند کرتے جا رہے ہیں۔

عراق کے 20 لاکھ پناہ گزین پڑوسی ممالک اردن، شام، مصراورلبنان میں نہایت ہی خستہ حال زندگی گزار رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے ترجمان کسارم مفرح کا کہنا ہے کہ باقی دنیا ان پناہ گزینوں کی حالت زار پرذرا بھی غور نہیں کر رہی ہے۔ ا نہوں نے کہا’ پڑوسی ممالک کی سرحدوں کو پار کرنا ان لوگوں کے لیے کافی مشکل ہے‘۔

بی بی سی کے نامہ نگار جان لیئن کا کہنا ہے کہ اردن عراقی پناہ گزینوں کی تعداد پر کافی تندہی سے پابندی لگا رہا ہے اور وہ ایسا سکیورٹی کے مسئلہ کے پیش نظر کر رہا ہے۔ اردن میں پہلے سے ہی دس لاکھ پناہ گزین موجود ہیں۔

اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق کام کرنے والےادارے کا کہنا ہے کہ سنہ 2003 میں عراق پرامریکی حملہ کے بعد عراق کی کل آبادی کا لگ بھگ 12 فی صد وطن چھوڑ کر پڑوسی ممالک میں جا چکاہے۔ان پناہ گزینوں میں سے زیادہ لوگ فاقہ کشی کا شکار ہیں۔

شام میں عراقی پناہ گزینوں کے 33 فی صد بچے سکول نہیں جاتے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسے ثبوت ہیں کہ کافی عراقی عورتیں مجبوری کے تحت جسم فروشی میں ملوث ہو رہی ہیں۔

اسی بارے میں
عراق میں متنازعہ گرفتاری
19 January, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد