عراقی پناہ گزینوں پر’دروازے بند‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امدادی کارکنوں نے عراق سے باہر جانے والے پناہ گزینوں کے بڑھتے مسائل کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ عراق کے پڑوسی ممالک اب ایک ایک کر کے ان پر اپنے دروازے بند کرتے جا رہے ہیں۔ عراق کے 20 لاکھ پناہ گزین پڑوسی ممالک اردن، شام، مصراورلبنان میں نہایت ہی خستہ حال زندگی گزار رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے ترجمان کسارم مفرح کا کہنا ہے کہ باقی دنیا ان پناہ گزینوں کی حالت زار پرذرا بھی غور نہیں کر رہی ہے۔ ا نہوں نے کہا’ پڑوسی ممالک کی سرحدوں کو پار کرنا ان لوگوں کے لیے کافی مشکل ہے‘۔ بی بی سی کے نامہ نگار جان لیئن کا کہنا ہے کہ اردن عراقی پناہ گزینوں کی تعداد پر کافی تندہی سے پابندی لگا رہا ہے اور وہ ایسا سکیورٹی کے مسئلہ کے پیش نظر کر رہا ہے۔ اردن میں پہلے سے ہی دس لاکھ پناہ گزین موجود ہیں۔ اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق کام کرنے والےادارے کا کہنا ہے کہ سنہ 2003 میں عراق پرامریکی حملہ کے بعد عراق کی کل آبادی کا لگ بھگ 12 فی صد وطن چھوڑ کر پڑوسی ممالک میں جا چکاہے۔ان پناہ گزینوں میں سے زیادہ لوگ فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ شام میں عراقی پناہ گزینوں کے 33 فی صد بچے سکول نہیں جاتے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسے ثبوت ہیں کہ کافی عراقی عورتیں مجبوری کے تحت جسم فروشی میں ملوث ہو رہی ہیں۔ | اسی بارے میں بغداد کار بم دھماکے، 70 ہلاک22 January, 2007 | آس پاس بغداد: مزید فوج کی آمد اور بم دھماکے21 January, 2007 | آس پاس عراق:پارلیمان کا بائیکاٹ ختم21 January, 2007 | آس پاس عراق میں متنازعہ گرفتاری19 January, 2007 | آس پاس بغداد کار بم دھماکے، 17 ہلاک18 January, 2007 | آس پاس ’امریکہ ہم کو جلد اسلحہ دے‘18 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||