عراق:پارلیمان کا بائیکاٹ ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے باغی شیعہ رہنما مقتدہ صدرکے سیاسی حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ عراقی پارلیمنٹ اور حکومت کا دو ماہ سے جاری بائیکاٹ ختم کر رہے ہیں۔ یہ بائیکاٹ عراقی وزیراعظم اور صدر بش کے درمیان ملاقات کے منصوبے کی وجہ سے کیا گیا تھا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عراقی حکومت میں شیعہ گروپوں کے درمیان کشیدگی کم ہونے کی علامت ہے۔ 275 نشتوں کی عراقی پارلیمان میں امریکی مخالف گروپ کے 32 ممبران پارلیمان ہیں۔ مقتدرہ صدر کی وفادار شیعہ ملیشیا مہدی آرمی نے 2003 سے امریکہ کے خلاف بے شمار جنگیں لڑی ہیں۔اور واشنگٹن نے اسے عراق میں عدم استحکام پھیلانے والی فورس کہا ہے۔ صدر کے حامیوں نے یہ اعلان اپنے ایک اتحادی گروپ کے سینئیر رہنماؤں کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ ان کے ترجمان بہا العرراجی نے کہا چونکہ ہمارے مطالبات کو مانا گیا ہے اس لئے ہم نے پارلیمان میں شریک ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اس گروہ کا سب سےاہم مطالبہ عراق میں امریکی افواج کی مسلسل موجودگی کی مخالفت تھا۔ پریس کانفرنس میں پارلیمان کے اسپیکر محمود المشادانی نے کہا کہ اب تمام پارلیمانی پارٹیاں ایک کمیٹی تشکیل دیں گی اور اس بائیکاٹ کی وجوہات پر غور کریں گی اور مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک نئی شروعات ہے۔ انہوں نے کہا’ہم دنیا سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عراقی مسائل کے لئے عراقی حل بہت اہم ہے اور دوسروں کو مسائل کے ایسےحل کی حمایت کرنی چاہئیے۔ | اسی بارے میں ’مسلح گروہوں کے خلاف کارووائی‘25 October, 2006 | آس پاس عراق میں متنازعہ گرفتاری19 January, 2007 | آس پاس سنی مساجد پر حملے، 31 ہلاک24 November, 2006 | آس پاس عراق: کون کیا ہے؟29 January, 2005 | آس پاس مردوں کوگھروں سے نکال کرماراگیا 25 November, 2006 | آس پاس حضرت علی کے روضے کا محاصرہ12 August, 2004 | آس پاس بغداد پر ایک اور بدترین حملہ24 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||