سنی مساجد پر حملے، 31 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی دارالحکومت بغداد میں جمعہ کو چار سنی مساجد پر حملوں میں اکتیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ سنی مساجد پر حملوں کو گزشتہ روز شعیہ اکثریتی علاقوں میں ہونے والے بم حملوں کا ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز شیعہ اکثریتی علاقوں میں ہونے والے بم حملوں میں دوسو سے زائد افراد جان بحق ہو گئے تھے۔ بغداد میں جمعرات سے نافذ کرفیو کے باوجود سنی اکثریتی علاقے الحریہ میں واقع ایک مسجد کو آگ لگا کر مکمل طور پر مسمار کردیا گیا ہے جبکہ ایک دوسری مسجد پر راکٹ باری کی گئی ہے اور دو پرگولیوں کی بوچھاڑ۔ حکومت نے جمعرات کو صدر سٹی کے علاقے میں سلسلہ وار بم دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تجہیزوتکفین کے لیے کرفیو میں نرمی کی تھی۔ ادھر عراق کی حکومت میں موجود شیعہ رہنماء مقتدہ الصدر کے حامیوں نے وزیراعظم نورالمالکی کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کی تو وہ کابینہ اور پارلیمان سے مستعفی ہو جائیں گے۔ نوری المالکی اور صدر بش کے درمیان اگلے ہفتے طے شدہ پروگرام کے تحت ملاقات متوقع ہے۔ مقتدہ الصدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ عراق میں موجود امریکی فوجیوں کو جمعرات کو صدر سٹی میں ہونے والی ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیا جائے۔ ادھر جمعہ کو ملک کے جنوبی شہر موصل میں دو خود کش حملوں میں بائیس افراد ہلاک اور چھبیس زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ایک خود کش حملہ آور کار میں سوار تھا جبکہ دوسرے نے دھماکہ اپنے جسم پر لگے بم سے کیا۔ | اسی بارے میں بغداد میں پولیس کو 83 لاشیں ملیں 04 November, 2006 | آس پاس عراق میں ہلاکتیں 100000: وزیر10 November, 2006 | آس پاس بغداد حملے: 20 ہلاک 50 اغوا12 November, 2006 | آس پاس عراق: اغواء شدہ ملازمین رہا14 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||