BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 January, 2007, 10:37 GMT 15:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد: مزید فوج کی آمد اور بم دھماکے
 بغداد
اتوار کو بغداد میں دو بم دھماکوں میں سات افراد ہلاک ہوئے
امریکی صدر بش کے عراق میں مزید فوج بھیجنے کے منصوبے کے تحت تین ہزار سے زائد امریکی فوجی بغداد پہنچ گئے ہیں۔

امریکی فوج نے تازہ کمک کی آمد کی تصدیق کر دی ہے۔

تین ہزار دو سو فوجیوں کا یہ دستہ ان اکیس ہزار پانچ سو فوجیوں کی کمک کا ابتدائی حصہ ہے جو کہ امرکی صدر نے اسی ماہ کے اوائل میں عراق بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی فوجیوں کو عراقی دارالحکومت بھیجنے کا مقصد شہر میں جاری تشدد کے واقعات پر قابو پانے میں عراقی سکیورٹی فورسز کی مدد کرنا ہے۔ تاہم فوجیوں کی آمد کے باوجود بغداد میں بم دھماکوں، ہلاکتوں اور فرقہ وارانہ قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے۔

اتوار کو بغداد میں دو بم دھماکوں میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پہلا دھماکہ شیعہ اکثریتی علاقے کرادا میں ایک منی بس میں ہوا اور اس میں چھ لوگ مارےگئے جبکہ دوسرا دھماکہ وسطی بغداد میں ہوا۔اس کے علاوہ اتوار کی صبح بصرہ میں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے ایک برطانوی فوجی بھی مارا گیا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق کرادا میں دھماکہ مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر بم ایک تھیلے میں تھا جو کوئی مسافر بس میں چھوڑ گیا تھا۔

دھماکے کے عینی شاہد فارس مہدی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ’ ہم اپنی دوکان کھول ہی رہے تھے جب ایک زوردار دھماکہ ہوا اور ہم نے ایک چھوٹی بس کو شعلوں میں گھرا دیکھا۔ ہم نے تین سوختہ لاشیں نکالیں اور شدید زخمی افراد کو ایک پک اپ کار میں ہسپتال منتقل کیا گیا‘۔

یاد رہے کہ گزشتہ کل کا دن عراق میں امریکی فوجیوں کے لیے برا ثابت ہوا تھا اور دو مختلف واقعات میں کل 18 امریکی فوجی مارے گئے تھے۔ بعقوبہ میں امریکی ہیلی کاپٹر کے ایک حادثے میں تیرہ امریکی فوجی مارے گئے تھے جبکہ ایک دوسرے واقعے میں پانچ امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

فوج معذرت کرے گی
ہلاک شدہ امریکی فوجیوں کا بلاوہ
عراقی پناہ گزینعراق سے نقل مکانی
ہر آٹھواں عراقی گھر بار چھوڑنے پر مجبور
صدر جارج بشسب سے بڑا دردِ سر
عراق میں کامیابی کے لیے بش کا نیا نسخہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد