عراق: ایک سال میں 34 ہزار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ادارے کےایک سینئر افسر نے کہا ہے کہ سنہ دو ہزار چھ میں عراق میں تشدد سے چونیتیس ہزار سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ عراق میں اقوام متحدہ کے ایلچی گیانی میگزینی نے کہا ہے کہ ان کے اعداد و شمار کے مطابق چونیتیس ہزار چار سو باون شہری ہلاک اور 36 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ عراق کی موجودہ صورت حال میں ہلاکتوں اور زخمیوں کے صحیح اعداد و شمار جمع کرنا مشکل کام ہے۔ تاہم اس سے قبل اقوام متحدہ کی طرف سے ایسی جو بھی رپورٹ پیش کی گئی ہے بغداد نے اسے پوری طرح مسترد کردیا ہے۔ مسٹر میگزینی کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ اعداد و شمار ہسپتال، مردہ خانوں اور دیگر ایجنسیوں سے جمع کیے ہیں۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ کا کہنا ہے کہ صحیح طور پر تو کسی کو بھی نہیں معلوم کہ عراق میں ہر روز کتنے لوگ ہلاک ہوتے ہیں لیکن اقوام متحد کے اعداد و شمار ایک اندازے کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس رپورٹ کے متعلق عراقی حکومت کی طرف سے کوئی بیان نہیں آيا ہے لیکن جب اقوام متحدہ کی طرف سے صرف اکتوبر کے مہینے میں تین ہزار سات سولوگوں کی ہلاکت کی رپورٹ جاری کی گئی تھی تو عراقی انتظامیہ نے رپورٹ کو مبالغہ آرائی پر مبنی کہکر مستر کردیا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ تشدد کی لہر اور زمینی حالات سے تو یہی لگتا ہے کہ رپورٹ میں مبالغہ آرائی کی گنجائش کم ہے۔ ہر صبح پولیس بغداد کی گلیوں سے درجنوں لاشیں بر آمد کرتی ہے۔ زیادہ تر ہلاکتیں شیعہ اور سنیوں کے درمیان فرقہ وارنہ تشدد کا نتیجہ ہیں۔ صدام حسین اور ان کے ساتھیوں کی پھانسی کے بعد اس تشدد میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ | اسی بارے میں ’آپریشن ٹوگیدر فارورڈ‘ کتنا موثر؟16 August, 2006 | آس پاس عراق تشدد: اعداد و شمار کے آئینے میں20 August, 2006 | آس پاس عراق میں امریکی فوج میں اضافہ 10 January, 2007 | آس پاس عراق: طیارہ تباہ، 32 ہلاک09 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||