بغداد، یونیورسٹی میں درجنوں ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی دارالحکومت بغداد میں مستنصریہ یونیورسٹی میں دو بم دھماکوں میں کم سے کم 62 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پہلا بم یونیورسٹی کے باہر کھڑی کی ہوئی گاڑی میں نصب تھا۔ پہلے دھماکے کے بعد افراتفری مچ گئی اور اسی وقت ایک خود کش حملہ آور نے دھماکہ کر دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں بیشتر یونیورسٹی کے طالب علم ہیں۔ اس کے علاوہ بھی دار الحکومت میں کئی پر تشدد واقعات ہوئے ہیں۔ یونیورسٹی بم دھماکوں کے علاوہ دیگر حملوں کے نتیجے میں کم سے کم پچیس افراد مارے گئے ہیں۔ دارالحکومت کے شمالی حصے میں کچھ مسلح افراد نے بازار میں موجود گاہکوں پر گولیاں چلادیں جس کے نتیجے میں دس افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ دھماکے اورحملے ایسے وقت پر کیے گئے ہیں جب اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2006 کے پرتشدد واقعات میں عراق میں 34400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2006 کے تشدد آمیز واقعات میں 36000 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے اعداد و شمار عراقی حکومت کے اندازوں سے تین گنا زیادہ ہیں۔ بغداد کے یہ تازہ حملے ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب صدر بش نے ایک ہی ہفتہ قبل عراق میں 20000 سے زائد مزید امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔ ان فوجیوں میں سے بیشتر کو بغداد میں تعینات کیا جائے گا۔ کہا جارہا ہے کہ شہر کو فسادات سے پاک کرنے کا یہ نیا امریکی و عراقی منصوبہ ہے۔
حالیہ حملوں میں سے بدترین واقعہ مشرقی بغداد کی ایک جامعہ کے سامنے کار بم دھماکہ ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت پر کیا گیا جب بیشتر طلباء اپنی کلاسوں کے بعد گھر جانے کے لیے یونیورسٹی سے نکل رہے تھے۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار مائیک وولڈرج کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے بظاہر عمارت کے سامنے اور پیچھے کے داخلی راستوں کو نشانہ بنایا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ طلباء کو نشانہ بنایا جاسکے۔ دھماکوں کے بعد ہر طرف شیشوں اور دروازوں کا ملبہ بکھر گیا۔ پولیس کے مطابق ان حملوں میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان واقعات سے چند گھنٹوں پہلے بغداد کی ایک موٹر سائیکلوں کی مارکیٹ پر دوہرے بم حملے کیے گئے۔ یہ مارکیٹ بغداد کے شیعہ اکثریتی علاقے باب الشیخ میں واقع ہے۔ پہلے حملے میں مارکیٹ میں موجود گاہکوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ دوسرے حملے کا شکار وہ لوگ بنے جو پہلے دھماکے سے راہ فراد اختیار کرکے باہر کی طرف دوڑ رہے تھے یا پھر پہلے حملے کا شکار لوگوں کی مدد کے لیے آگے بڑھ رہے تھے۔ دیگر واقعات میں مسلح حملہ آوروں نے بغداد کے البنوک علاقے میں فائرنگ کرکے دس افراد کو ہلاک جبکہ 7 کو زخمی کردیا۔ حملہ آور بعد میں گاڑیوں میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ | اسی بارے میں ’آپریشن ٹوگیدر فارورڈ‘ کتنا موثر؟16 August, 2006 | آس پاس عراق تشدد: اعداد و شمار کے آئینے میں20 August, 2006 | آس پاس عراق میں امریکی فوج میں اضافہ 10 January, 2007 | آس پاس عراق: طیارہ تباہ، 32 ہلاک09 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||