عراق: فضائی راستے بھی غیر محفوظ؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں ایک اور امریکی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ہے، یہ بغداد کے قریب گرنے والا 46 - CH سی نائٹ (سمندری سورما) ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر تھا۔ عراق میں القاعدہ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر اس نے مار گرایا ہے، تاہم امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایسا تکنیکی خرابی کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن وجہ کوئی بھی ہو، اس سال پانچ امریکی ہیلی کاپٹر گر چکے ہیں جبکہ امریکی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ مار گرائے جانے والے چار ہیلی کاپٹر اس کے علاوہ ہیں۔ اس صورتحال میں دو اہم سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ اوّل، کیا عراقی مزاحمت کاروں نے امریکی جہازوں پر حملے بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے؟ اور دوئم، کیا انہوں نے ان حملوں کو کامیاب بنانے کے لیے کوئی نئی تکنیک سیکھ لی ہے یا حاصل کر لی ہے؟ ان دونوں سوالوں کا حتمی جواب دینا کافی مشکل ہے۔ یہ تو واضح ہے کہ مزاحمت کار امریکہ کی طرف سے سال دو ہزار تین میں عراق پر حملے کے بعد سے ہیلی کاپٹروں پر حملہ کرنا چاہ رہے تھے، لیکن یہ جاننا مشکل ہے کہ اب تک امریکی ہیلی کاپٹروں پر کتنے حملے ہو چکے ہیں کیونکہ امریکہ اس حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کرتا۔ عراق میں امریکی فوج کے ترجمان میجر جنرل ولیم کاڈویل کا کہنا تھا کہ یہ نتیجہ اخذ کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ ہوائی جہازوں پر مزاحمت کاروں کے حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ’خوش قسمتی‘ کچھ مزاحمت کار گروہوں نے یقیناً دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس طیارے گرانے کے نئے گرُ آگئے ہیں، لیکن معلوم نہیں کہ آیا یہ محض ایک بڑ ہے یا پھر طیارہ شکن میزائیلوں کی طرف اشارہ ہے۔
دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے نئے ہتھیاروں کے کوئی شواہد نہیں دیکھے، اگرچہ وہ اس امکان کو مکمل طور پر رد بھی نہیں کرتے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس سال ہونے والے (ہیلی کاپٹروں کے) نقصانات محض مزاحمت کاروں کی خوش قمستی بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر دیکھا جائے مزاحمت کاروں کو ہیلی کاپٹر گرانے کے حوالے سے مجموعی طور پر اب تک محدود کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ بروکنگ انسٹیٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مئی سال دو ہزار تین سے اب تک گئی پندرہ لاکھ گھنٹوں کی پرواز میں کل پچپن ہیلی کاپٹر تباہ ہوئے ہیں، جن میں سے نصف کو مزاحمت کاروں نے نشانہ بنایا۔ لیکن امریکی فوجی منصوبہ ساز کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ عراق میں امریکی فوجی حکام نے فوری طور پر پروازوں کے نظام الاوقات کو تبدیل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عراق میں امریکی افواج کے لیے ہیلی کاپٹروں کا استعمال بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ موجودہ حالات میں سڑک کے راستے سفر کو انتہائی خطرناک خیال کیا جا رہا ہے اور یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ مزاحمت کار چاہیں گے کہ وہ امریکی افواج کے لیے فضائی سفر کو بھی اتنا ہی خطرناک بنا دیں جتنا کہ انہوں نے زمینی سفر کو بنا رکھا ہے۔ |
اسی بارے میں امریکی ہیلی کاپٹر تباہ، سات ہلاک08 February, 2007 | آس پاس ’عراق، اربوں ڈالر بھیجنا درست تھا‘07 February, 2007 | آس پاس بغداد میں فوجی آپریشن اور دھماکے05 February, 2007 | آس پاس ’امریکی ہیلی کاپٹر تباہ کیےگئے تھے‘04 February, 2007 | آس پاس عراق: بم دھماکے میں 135 ہلاکتیں03 February, 2007 | آس پاس امریکی امیدیں ’غیر حقیقت پسندانہ‘31 January, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||