BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 February, 2007, 10:24 GMT 15:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: فضائی راستے بھی غیر محفوظ؟

ہیلی کاپٹر
یہ جاننا مشکل ہے کہ اب تک امریکی ہیلی کاپٹروں پر کتنے حملے ہو چکے ہیں
عراق میں ایک اور امریکی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ہے، یہ بغداد کے قریب گرنے والا 46 - CH سی نائٹ (سمندری سورما) ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر تھا۔

عراق میں القاعدہ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر اس نے مار گرایا ہے، تاہم امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایسا تکنیکی خرابی کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔

لیکن وجہ کوئی بھی ہو، اس سال پانچ امریکی ہیلی کاپٹر گر چکے ہیں جبکہ امریکی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ مار گرائے جانے والے چار ہیلی کاپٹر اس کے علاوہ ہیں۔

اس صورتحال میں دو اہم سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ اوّل، کیا عراقی مزاحمت کاروں نے امریکی جہازوں پر حملے بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے؟ اور دوئم، کیا انہوں نے ان حملوں کو کامیاب بنانے کے لیے کوئی نئی تکنیک سیکھ لی ہے یا حاصل کر لی ہے؟ ان دونوں سوالوں کا حتمی جواب دینا کافی مشکل ہے۔

یہ تو واضح ہے کہ مزاحمت کار امریکہ کی طرف سے سال دو ہزار تین میں عراق پر حملے کے بعد سے ہیلی کاپٹروں پر حملہ کرنا چاہ رہے تھے، لیکن یہ جاننا مشکل ہے کہ اب تک امریکی ہیلی کاپٹروں پر کتنے حملے ہو چکے ہیں کیونکہ امریکہ اس حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کرتا۔

عراق میں امریکی فوج کے ترجمان میجر جنرل ولیم کاڈویل کا کہنا تھا کہ یہ نتیجہ اخذ کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ ہوائی جہازوں پر مزاحمت کاروں کے حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

’خوش قسمتی‘

کچھ مزاحمت کار گروہوں نے یقیناً دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس طیارے گرانے کے نئے گرُ آگئے ہیں، لیکن معلوم نہیں کہ آیا یہ محض ایک بڑ ہے یا پھر طیارہ شکن میزائیلوں کی طرف اشارہ ہے۔

ہیلی کاپٹر
عراق میں امریکی افواج کے لیے ہیلی کاپٹروں کا استعمال بہت اہمیت کا حامل ہے

دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے نئے ہتھیاروں کے کوئی شواہد نہیں دیکھے، اگرچہ وہ اس امکان کو مکمل طور پر رد بھی نہیں کرتے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس سال ہونے والے (ہیلی کاپٹروں کے) نقصانات محض مزاحمت کاروں کی خوش قمستی بھی ہو سکتی ہے۔

تاہم اگر دیکھا جائے مزاحمت کاروں کو ہیلی کاپٹر گرانے کے حوالے سے مجموعی طور پر اب تک محدود کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ بروکنگ انسٹیٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مئی سال دو ہزار تین سے اب تک گئی پندرہ لاکھ گھنٹوں کی پرواز میں کل پچپن ہیلی کاپٹر تباہ ہوئے ہیں، جن میں سے نصف کو مزاحمت کاروں نے نشانہ بنایا۔

لیکن امریکی فوجی منصوبہ ساز کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ عراق میں امریکی فوجی حکام نے فوری طور پر پروازوں کے نظام الاوقات کو تبدیل کرنے کا حکم دیا ہے۔

عراق میں امریکی افواج کے لیے ہیلی کاپٹروں کا استعمال بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ موجودہ حالات میں سڑک کے راستے سفر کو انتہائی خطرناک خیال کیا جا رہا ہے اور یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ مزاحمت کار چاہیں گے کہ وہ امریکی افواج کے لیے فضائی سفر کو بھی اتنا ہی خطرناک بنا دیں جتنا کہ انہوں نے زمینی سفر کو بنا رکھا ہے۔

عراقی پناہ گزینعراق سے نقل مکانی
ہر آٹھواں عراقی گھر بار چھوڑنے پر مجبور
امریکی فوجیتین سال میں 3000
عراق میں اب تک 3000 امریکی فوجی ہلاک
جنگ یا خانہ جنگی
عراقی صورتِ حال کو جنگ کہیں یا خانہ جنگی
جسمانی تشددتشدد میں اضافہ
’عراق میں جسمانی تشدد صدام دور سے زیادہ ہے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد