’عراق، اربوں ڈالر بھیجنا درست تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی انتظامیہ کے سابق سربراہ پال بریمر نے 2003 اور 2004 کے دوران اربوں ڈالر نقد رقم بغداد بھیجنے کا دفاع کیا ہے۔ اس رقم کے ایک بڑے حصے کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں خرچ کیا گیا۔ انہوں نے کانگریس کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ عراق کے وزیر خزانہ نے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں اور پینشن کی ادائیگی کے لیے رقم کی درخواست کی تھی۔ یہ رقم تیل کی برآمد سے ہونے والی آمدنی اور معزول صدر صدام حسین کے منجمند اثاثوں پر مشتمل تھی۔ پال کا کہنا تھا کہ رقم کی تقسیم کے وقت اکاؤنٹنگ کے جدید معیار کے مطابق عمل کرنا ناممکن تھا۔ سماعت کے وقت کانگریس کے ایک رکن ہنری واکس مین نے پال بریمر سے پوچھا کہ کیا کبھی اتنی بڑی رقم کو جنگی علاقے میں بھیجا گیا ہے؟۔ | اسی بارے میں عراق تعمیراتی فنڈز میں ’بدعنوانیاں‘31 January, 2007 | آس پاس نینسی پلوسی بغداد کے دورے پر26 January, 2007 | آس پاس بغداد: بم حملوں میں 15 ہلاک27 January, 2007 | آس پاس بغداد: بم حملے، فوجی کارروائیاں27 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||