BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 February, 2007, 15:45 GMT 20:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: بم دھماکے میں 135 ہلاکتیں
بغداد(فائل فوٹو)
پولیس پہلے اس حملے کو خودکش حملہ قرار دے رہی تھی
عراقی حکام کے مطابق مرکزی بغداد کی ایک مارکیٹ میں کیے گئے ٹرک بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد 135 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 300 سے زائد زخمی بتائے جارہے ہیں۔

یہ دھماکہ بغداد کے شیعہ اکثریتی الصدریہ ڈسٹرکٹ کے ایک بازار میں کیا گیا جہاں لوگ رات کے کرفیو سے قبل اشیائے خوردونوش خرید رہے تھے۔ یہ بازار اس سے قبل بھی حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ بی بی سی کے نمائندے مائیک وولرج کے مطابق پولیس پہلے اس حملے کو خودکش حملہ قرار دے رہی تھی تاہم اب اس کا کہنا ہے کہ ٹرک بازار میں کھڑا کیا گیا تھا۔

دھماکہ اس قدر زور دار تھا کہ اس سے اردگرد کے سٹالز تباہ ہوگئے اور زمین میں گہرا گڑھا پڑ گیا۔ امدادی کارکن ملبے سے انسانی اعضاء، لاشیں اور زخمیوں کو نکال کر پک اپ ٹرکوں کے ذریعے ہسپتالوں تک پہنچاتے رہے۔

الصدریہ کے نزدیک واقع ابن النفیس ہسپتال کے وارڈ اور راہداریاں جلد ہی لاشوں اور زخمیوں سے بھر گئے جبکہ متاثرین کے رشتہ داروں کی چیخ و پکار دور دور تک سنی جاسکتی تھی۔ ایک زخمی نے بتایا کہ جب دھماکہ ہوا تو وہ الصدریہ میں اپنی دکان پر تھا۔ دھماکے کی شدت سے دکان کی چھت اس پر آگری اور وہ بے ہوش ہوگیا۔

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے دھماکے کی ذمہ داری سابق عراقی صدر صدام حسین کے حامیوں اور دیگر شدت پسندوں پر عائد کی ہے۔

اس کےعلاوہ عراق کے شمالی شہر کرکوک میں سنیچر کو دو گھنٹوں کے دوران سات سلسلہ وار کار بم دھماکوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوئے ہیں۔

کرکوک
کرکوک میں ایک ہی ساتھ سات بم دھماکے کیے گئے

کرکوک میں پھٹنے والے دو بموں کا نشانہ دو کرد جماعتوں کے ہیڈکوارٹر تھے جبکہ دیگر بم دھماکوں میں پٹرول سٹیشن اور تجارتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ دھماکوں کے بعد شہر میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔

دریں اثناء پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ سمارا میں پولیس کی ایک حفاظتی چوکی پر حملے میں چھ پولیس اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ہیں۔

نومبر میں بغداد کے صدر سٹی میں کیے گئے دھماکے میں دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ بغداد ہی کے ایک مصروف بازار میں 22 جنوری کو پھٹنے والے بم سے 88 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

امریکی حکام بغداد میں مزید 21500 فوجی تعینات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سن 2003 میں امریکی قبضے کے بعد سے یہ اب تک کا کیا جانے والا سب سے بڑا انفرادی دھماکہ ہے۔

سنیچر کو عراق کے شیعہ رہنما آیت اللہ السیستانی نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فرقہ واریت چھوڑ کر متحد ہوجائیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد