BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 February, 2007, 04:34 GMT 09:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عراق میں خانہ جنگی ہو رہی ہے‘
عراق پر خفیہ اداروں کی رپورٹ کو صدر بش کے فیصلہ کو درست ثابت کرنے کے لیئے استعمال کیا جائے گا
امریکی خفیہ اداروں نے عراق میں جاری کشیدگی اور شدید فرقہ وارانہ تشدد کا تجزیہ کرتے ہوئے پہلی مرتبہ ملک کی صورت حال کو بیان کرنے کے لیے خانہ جنگی کا لفظ استعمال کیا ہے۔

عراق کی صورت حال پر امریکی خفیہ اداروں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق میں حالات اس قدر پیچیدہ ہیں کہ خانہ جنگی کا لفظ بھی اس کا صحیح طور پر احاطہ نہیں کرتا۔

خفیہ اداروں کے تجزیوں کے مطابق عراق میں جب تک تشدد کو ختم نہیں کیا جاتا اس کا مستقبل تاریک ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ کو تلخ مگر سچ پر مبنی قرار دیا ہے۔

اس دستاویز میں عراق میں فرقہ وارانہ اور لسانی بنیادوں پر لوگ کی تقسیم اور آبادی کی نقل مکانی کی صورت حال کو بیان کرنے کے لیے خانہ جنگی کا لفظ استعمال کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ عراق میں سنی اور شیعہ بنیادوں پر معاشرے میں تقسیم اور کمزور حکومت کی وجہ امن واماں کی صورت حال مزید خراب ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عراق میں جاری جنگی کی وجہ سے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے جس کی انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کے قیام کے بعد مشرق وسطی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

امریکی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ عراق کی صورت حال کو خانہ جنگی کہنا بھی درست نہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں بیک وقت چار جنگیں جاری ہیں۔ ایک طرف ملک کے جنوبی حصہ میں شیعہ گروہوں میں آپس میں لڑائی ہو رہی ہے تو دوسری طرف بغداد میں فرقہ وارانہ تشدد جاری ہے۔ تیسرے امریکی فوج کے خلاف مزاحمت ہو رہی ہے اور چوتھے القاعدہ پرتشدد کارروائیاں کر رہی ہے۔

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر سٹیو ہیڈلی نے کہا کہ رپورٹ میں عراق کی صورت حال کا کڑا جائزہ لیا گیا ہے لیکن یہ صدر بش کے اکیس ہزار مزید امریکی فوجی عراق بھیجنے کے فیصلے کی نفی نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کیوں صدر نے عراق کے بارے میں نئی حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیوں کیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار ائین واٹسن کا کہنا ہے کہ عراق کے بارے میں اس رپورٹ کو بش انتظامیہ صدر کی نئی حکمت عملی اپنانے کے فیصلے کو درست قرار دینے کے لیے استعمال کرے گی۔

اس دستاویز میں عراق سے امریکی فوجوں کے جلد انخلاء کی مخالفت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس سے عراق میں موجود القاعدہ کے عناصر مضبوط ہوں گے، عراقی فوج کو نقصان ہوگا اور تشدد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو جائے گا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران اور کسی حد تک شام بھی عراق میں صورت حال کو خراب کرنے میں ملوث ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد