BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 February, 2007, 12:26 GMT 17:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: ایران کو امریکی وارننگ
عراق میں امریکی فوجی
ایران کی مدد سے بننے والے بم امریکی فوجیوں پر استعمال ہوتے ہیں
امریکہ نے ایران کو دی جانے والی وارننگز کے سلسلے میں تازہ ترین وارننگ جاری کی ہے جس میں اس سے کہا گیا ہے کہ وہ عراق میں مزاحمت کاروں کی ایسے ہلاکت خیز بموں کی تیاری میں مدد دینا بند کر دے جنہیں امریکی فوجیوں پر حملوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

امریکی انڈر سیکرٹری خارجہ نکولس برنز نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے کئی ایسے مشکوک ایرانیوں کو حراست میں لیا ہے جو شیعہ مزاحمت کاروں کو ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی فراہم کر رہے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے مزاحمت کاروں کو دی جانے والی اس امداد کا دائرہ بصرہ کے شمال سے بغداد تک پھیلا ہوا ہے اور اس کے نتیجے میں امریکی اور برطانوی ہلاکتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔

ایران نے بارہا تردید کی ہے کہ وہ عراق میں تشدد کو ہوا دے رہا ہے۔

نکولس برنز نے بی بی سی کو بتایا کہ 11 جنوری کو امریکی فوج نےپانچ ایسے ایرانیوں کو حراست میں لیا ہے جو ایرانی محافظان ِ انقلاب کے القدس فورس سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’شمالی عراق سے گرفتار ہونے والی پانچ ایرانی کاروباری لوگ نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق نیم فوجی دستوں سے ہے‘۔

کنولس برنز نے دعویٰ کیا ہے کہ ’یہ لوگ ایرانی حکومت کے اہلکار اور جاسوسی کے شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں اور فرقہ ورانہ تشدد میں ملوث ہیں‘۔

امریکی صدر جارج بُش نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ فوج کو ایران کی طرف سے مبینہ مداخلت کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کا اختیار دے دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد