ایران :البرادعی کی تجویز مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام اوراس پرعائدپابندیوں کے حوالے سے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ محمد البردعی کی تجویز کو مسترد کردیا ہے۔ جمعہ کے روز محمد البرادعی نے کہا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام اور اس پر عائد پابندیاں ایک ہی وقت میں روکی جا سکتی ہیں۔ اقوام متحدہ میں امریکی قائم مقام سفیر الیزاندرونے کہا ہے کہ ایران پر جو پابندیاں پہلے سے عائد ہیں ان کی نئ توجیح پیش نہیں کی جاسکتی۔ اقوام متحدہ نےگزشتہ دسمبر میں ایک قرار داد منظور کی تھی جس کے مطابق ایران پراس وقت تک پابندیاں عائد رہیں گی جب تک وہ یورینیم کی افزودگی نہیں روکتا۔ افزدہ یورینیم جوہری ری ایکٹر میں بطور ایندھن استعمال کی جاتی ہے لیکن اس کا استعمال ایٹمی ہتھیاروں کےحوالےسے بھی ہوسکتا ہے۔ بعض مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پرگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ امریکی سفیر الیزاندرونے کہا ’ پابندی ختم کرنے کا ایک طریقہ ہے کہ ایران افزدگی کے عمل کو روکے جس کا اقوام متحدہ نے مطالبہ کیا ہے۔‘ ایران نے بھی البرادعی کی تجویز مسترد کردی ہے۔ جوہری امور کے چیف مذاکرات کار علی لاریحانی جانی کا کہنا ہے کہ تجویز جامع نہیں ہے۔ ’ انہوں نےایران کے جوہری پروگرام کی کئی جہتیں اور صورتیں ہیں جن کا حل اتنا آسان نہیں ہے۔، جمعہ کے روز ایران نے اقوام متحدہ کی معائنہ کار ٹیم سے ملک سےچھوڑ نےکا مطالبہ کیا تھا۔ ٹیم کے سربراہ کرس چارلئیر کے ایران میں داخل ہونے پر پہلے ہی سے پابندی عائد ہے۔ | اسی بارے میں برادعی: میرا صبر جواب دے رہا ہے16 January, 2006 | صفحۂ اول اقوام متحدہ سے تعاون ختم: ایران04 February, 2006 | صفحۂ اول ’تجاویز پر غور کیلیے تیار ہیں‘04 June, 2006 | صفحۂ اول ایران کوہتھیاروں کی فراہمی شروع 24 November, 2006 | صفحۂ اول روسی میزائل ایران کے حوالے 23 January, 2007 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||