روسی میزائل ایران کے حوالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کو تیس ائیرڈیفنس میزائل مہیا کر دیے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس سودے کا معاہدہ گزشتہ برس ہوا تھا۔ روسی اخبارات میں شائع خبروں میں اسلحے کی سرکاری کمپنی روزبرونیکسٹ پورٹ کے سربراہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مذکورہ دفاعی سسٹم گزشتہ برس کے اؤاخر میں ایرن کے حوالے کیےگئے ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ برس ستر کروڑڈالر کے اس معاہدے پر امریکہ اور اسرائیل نے سخت ناراضگی ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ ایران ان ہتھیاروں کو پڑوسی ممالک پرحملے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن روس کا کہنا ہے کہ اس کا ٹار ایم ون کم فاصلے والا سسٹم ہے اور وہ صرف دفاعی مقصد کے لیے ہے۔ خبر رساں ادارے اٹار ٹاس نے سرگی شیموف کے بیان کے حوالے سے لکھا ہے’ٹار ایم ون دفاعی سسٹم گزشتہ دسمبرکے اوآخر میں ہی حوالے کر دیے گیے تھے۔ روس کے وزیر دفاع سرگی ایوانوف نے اس بارے میں پہلے بیان دے چکے ہیں کہ میزائل اس نوعیت کے ہیں کہ دہشت گرد ان کا استعمال نہیں کرسکتے۔ امریکہ چاہتاہے کہ کوئی بھی ملک ایران کو اسلحہ فروخت نہ کرے۔ لیکن روس اور چین اس کے مخالفت ہیں۔ روس اور چین نے ایران کو حساس قسم کا جوہری مواد فروخت کرنے پر اقوام متحدہ کی طرف عائد کی گئی پابندی کی حمایت کی ہے۔ تاہم اس پابندی میں روایتی ہتھیاروں کے خرید و فروحت پر کوئی روک نہیں ہے۔ | اسی بارے میں ایران کے خلاف قرارداد24 September, 2005 | صفحۂ اول ایران کے خلاف قرارداد مثبت: امریکہ25 September, 2005 | صفحۂ اول اقوام متحدہ سے تعاون ختم: ایران04 February, 2006 | صفحۂ اول روس کی تجویز اب زیرغور نہیں:ایران12 March, 2006 | صفحۂ اول ایران کوہتھیاروں کی فراہمی شروع 24 November, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||