اقوام متحدہ کا چیف انسپکٹر مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سفارتکاروں کا کہنا کہ ایران نے اقوام متحدہ سے جوہری معائنہ کاروں کے سربراہ کو ایران سے واپس بلائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے یہ اہلکار کرس چارلئر کے ملک میں داخل ہونے پر ایران پہلے ہی پابندی لگا چکا۔ عالمی قوانین کے مطابق ایران ایسے تمام معائنہ کاروں کو مسترد کرنے کا حق رکھتا ہے جن پر اسے اعتبار نہ ہو یا جنہیں وہ پسند نہ کرتا ہو۔ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی آئی اے ای کے ویانا میں واقع صدر دفتر کو لکھے جانے والے خط میں حکومت ایران نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ایران کے بارے میں کوئی رپورٹ مسٹر چارلیر کو نہ دیکھنے دی جائے۔ ایران اس اقدام سے پہلے چار ملکوں کے 38 انسپیکٹروں کے اپنے ہاں داخل ہونے پر پابندی لگا چکا ہے۔ کچھ مغربی ملک اس اندیشے کا اظہار کرتے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے جب کہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف پُر امن مقاصد کے لیے ہے۔ آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادی نے کہا ہے کہ اب بھی ایران میں معائنہ کاروں کی کافی تعداد موجود ہے اور وہ کام انجام دے سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’امریکہ ایران پر حملہ نہیں کر سکتا‘24 January, 2007 | آس پاس ایٹمی پالیسی: ایرانی صدر پر تنقید22 January, 2007 | آس پاس ’ایران پر حملے کی اجازت لینا ہوگی‘19 January, 2007 | آس پاس ایران کا ’بڑا جوہری منصوبہ‘15 January, 2007 | آس پاس ’ایران، شام کے اندر گھسنےکا اردہ نہیں‘13 January, 2007 | آس پاس ایرانی قونصلیٹ پرامریکی حملہ11 January, 2007 | آس پاس ایران پر حملے کا ارادہ نہیں: اسرائیل07 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||