ایران کا ’بڑا جوہری منصوبہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کے لیے تین ہزار ’سینٹریفیوج‘ لگا کر صنعتی مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے حصول کا وسیع منصوبہ شروع کر رہا ہے۔ ایرانی حکومت کے ترجمان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب جوہری توانائی کا عالمی ادارے ( آئی اے ای اے) اس پریشانی میں مبتلا ہے کہ ایران کہیں اپنا جوہری پروگرام کسی خفیہ مقام پر تو جاری نہیں رکھے ہوئے، کیونکہ اس کے جوہری توانائی کے مرکزی پلانٹ پر نقل و حرکت بہت کم ہے۔ تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اگلے ماہ ’انقلاب‘ کی سالگرہ کے موقع پر اپنے جوہری منصوبے کے حوالے سے اہم اعلان کرنے والی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری منصوبہ پر امن مقاصد کے لیے ہے، لیکن کچھ مغربی ممالک کو شبہ ہے کہ ایران ایٹم بم بنانا چاہتا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کے آیا ایران نے تین ہزار سینٹریفیوج لگا لیے ہیں اور انہیں کامیابی سے چلا لیا ہے یا وہ ایسا کرنے جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں ایرانی قونصلیٹ پرامریکی حملہ11 January, 2007 | آس پاس ایران پر حملے کا ارادہ نہیں: اسرائیل07 January, 2007 | آس پاس ایران:جوہری ادارے سے تعاون پرنظرثانی25 December, 2006 | آس پاس ایران عالمی معائنہ کاری پر رضامند24 November, 2006 | آس پاس ایران پر پابندیاں لگانے کی منظوری23 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||