ایران:جوہری ادارے سے تعاون پرنظرثانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی پارلیمنٹ نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے جوہری ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی سے جوہری توانائی کے شعبہ میں جاری تعاون پر نظرثانی کرے۔ ارکان پارلیمان نے زبردست اکثریت سے ایک قرارداد منظور کی جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس قرارداد کو غیرمنصفانہ اور غیرقانونی قرار دیا گیا جس میں ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے سبب اس پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اس سے قبل ایرانی صدر احمدی نژاد نے کہا تھا کہ مغرب کو ایران کے جوہری پروگرام کا عادی ہوجانا چاہئے اور یہ کہ اس کا پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سنیچر کے روز اتفاق رائے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اقوامِ متحدہ کا کوئی بھی رکن ملک ایران کو ایسا سامان، ٹیکنالوجی یا مواد فراہم نہیں کرے گا جو ایران کے جوہری اور بلیسٹک میزائل پروگرام میں مددگار ثابت ہو سکے۔ ایران نے قرارداد کے بعد کہا تھا کہ وہ یورنیم کی افزودگی میں استعمال ہونے والے تین ہزار سینٹری فیوجز کی تنصیب جاری رکھے گا۔ ادھر فرانس کے وزیرخارجہ نے فلِپ داؤستے بلیزی نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آجائے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد کا خیرمقدم کیا ہے کیونکہ یہ ایران کو اس بات پر مائل کرنے کی کوشش ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرے۔ | اسی بارے میں ’سلامتی کونسل کی قرارداد کاغذ کا پرزہ ہے‘ 24 December, 2006 | آس پاس ایران پر پابندیاں: عالمی ردعمل23 December, 2006 | آس پاس ایران پر پابندیاں لگانے کی منظوری23 December, 2006 | آس پاس ’ایران خطے کے لیے خطرہ ہے‘20 December, 2006 | آس پاس اسرائیل: جوہری ہتھیاروں کا اعتراف11 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||