BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 December, 2006, 07:45 GMT 12:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایران خطے کے لیے خطرہ ہے‘
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر
بلیئر ان دنوں مشرقِ وسطی کے دورے پر ہیں (فائل فوٹو)
برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر نے مسلمان ممالک سے کہا ہے کہ وہ خطے میں ایران کے خلاف اور اس کے اثر کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک اعتدال پسند اتحاد تشکیل دیں۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور اعتدال پسندی پر یقین رکھنے اور اس کی مخالفت کرنے والوں کے درمیان جاری کشمکش کے دوران دنیا کو اپنی آنکھیں کھلی رکھنی چاہیں۔


مشرق وسطیٰ کے دورے کے آخر میں ان کا کہنا تھا کہ اکیسویس صدی کا بڑا چیلنج نظریاتی جنگ ہے۔

دوسری جانب نیویارک میں خطاب کرتے ہوئے عراق کے رہنما طارق الہاشمی کا کہنا تھا کہ بلیئر نےعراق سے فوجیں نکالنے کے لیے نظام الاوقات دینے پر اتفاق کیا تھا مگر بعد میں امریکی صدر بش نے ان کا ذہن تبدیل کردیا۔صدر بش بھی اب تک عراق سے فوجیں نکالنے کے لیے کوئی نظام الاوقات دینے سے انکار ہی کرتے آئے ہیں۔

بلیئر گزشتہ ایک ہفتہ سے مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔ اس دوران انہوں نے ترکی، مصر، عراق، مغربی اردن اور اسرائیل کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں۔

دبئی میں برطانوی اور متحدہ عرب امارات کے تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران اور شام مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال میں کوئی مثبت یا تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہوتے ہیں تو اس صورت میں ان کے ساتھ کسی قسم کی کوئی نئی شراکت داری ممکن ہے۔

انہوں نے خبردار کیا ’ہمیں ایران کی حکومت کے خطرے کو پہچاننا چاہیے مگر وہاں کے عوام کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ ایران کی حکومت میں شامل تمام عناصر خطرہ نہیں ہو سکتے لیکن وہ ہیں جو اس وقت وہاں پالیسیاں بنانے کے ذمہ دار ہیں‘۔

بلیئر نے متحدہ عرب امارات کی معاشی ترقی کی تعریف کی (فائل فوٹو)

برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا ’وہ ہمیں لبنان، عراق اور فلسطین میں نیچا دکھانا چاہتے ہیں۔ ہمارا ردعمل ایسا ہونا چاہیے جو ان کے ان خفیہ کرتوتوں کو سب کے سامنے لائے اور ہم ان کے خلاف اتحاد تشکیل دیں اور خطے بھر میں ان کا رخ ان ہی کی طرف موڑ دیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سارے عمل میں مشرق وسطیٰ کے اعتدال پسند ممالک کی حمایت کی ضررت ہو گی تاہم ان کے ترجمان کا بعد ازاں کہنا تھا کہ ان کی اس بیان کا مقصد شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان تصادم کی صورت حال پیدا کرنا نہیں ہے۔

بلیئر کا کہنا تھا کہ خطے کے لیے ایران ایک واضح خطرہ ہے اور حماس فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کی راہ میں حائل ہے۔

ٹونی بلیئر جنہیں اگلے سال وزارت عظمی کے عہدے کو چھوڑ دینا ہے، کا کہنا تھا’ہمیں جاگنا چاہیے۔ شدت پسند عناصر نے اسلام کی بڑی بگڑی ہوئی اور غلط تصویر پیش کی ہے۔ وہ کوئی متنازعہ جنگ نہیں لڑ رہے ہیں بلکہ وہ ہم سے ہی ایک کے خلاف لڑ رہے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا اس ’ہم‘ میں صرف مغرب نہیں ہے بلکہ ’ہم‘ میں وہ سب آتے ہیں جو دوسروں کے احترام پر یقین رکھتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے دورے میں بلیئر نے ترکی کے وزیراعظم سے ملاقات کے دوران انہیں یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت کے حوالے سے برطانیہ کی بھرپور مدد کی یقین دہانی کروائی۔ انہوں نے فلسطین کے صدر محمود عباس اور اسرائیل کے وزیراعظم ایہود اولمرت سے خطے میں امن کے عمل کے حوالے بھی بات چیت کی۔

متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران انہوں نے ملک کی معاشی ترقی کی تعریف کی اور کہا کہ اگر دوسرے ممالک بصرہ اور غزہ کے معاملات میں اپنی ٹانگ نہ اڑائیں تو وہاں بھی ایسی ہی ترقی ہو سکتی ہے۔

مسٹر بلیئر نے بین الاقوامی برادری سے فلسطین اور صدر محمود عباس کی حکومت کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنےکی درخواست کی ہے۔

انہوں نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ فلسطین میں جب بھی انتخابات ہوتے ہیں تو ان میں صدر محمود عباس ضرور کامیاب ہوں گے۔

‘بش نے خراب کیا‘
’ٹونی بلیئر کا ذہن صدر کی وجہ سے خراب ہوا‘
گورڈن براؤن اور بلیئر’صرف چہرے نہیں‘
پالیسی میں تبدیلی لانا ہو گی: گورڈن براؤن
’جھوٹ کا پلندہ‘
’بلیئر اور بش کے خلاف مقدمہ چلانا چاہیے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد