BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 December, 2006, 13:01 GMT 18:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عباس کا جلد انتخابات کا اعادہ
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر
بلیئر ایک ایسے وقت اس خطے کا دورہ کر رہے ہیں جب غزہ میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے (فائل فوٹو)
فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس نے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کو بتایا ہے کہ وہ جلد انتخابات پر زور دینے جا رہے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم نے، جو اس وقت غرب اردن میں ہیں، محمود عباس کے جلد انتخابات کرانے کے فیصلے کو سراہا ہے۔ جب سے محمود عباس نے قبل از میعاد انتخابات کا عندیہ دیا ہے ان کی جماعت الفتح پارٹی اور مخالف گروپ حماس کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں جن کی وجہ سے فلسطینی علاقوں میں انتظامیہ مفلوج ہو گئی ہے۔

وزیراعظم ٹونی بلیئر نے محمود عباس کے ساتھ ملاقات میں فلسطینی رہنما کو کہا کہ وہ ان کی امن کوششوں کی تائید کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ٹونی بلیئر نے کہا ’ کسی کو بھی ایسی پیش رفت کو ویٹو کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔‘

محمود عباس کی طرف سے قبل از مدت انتخابات کرانے کے اعلان کو حماس اس کی حکومت کا ’تختہ الٹنے‘ سے تعبیر کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ حماس اس سال جنوری میں ہونے والے عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے جیتی تھی اور موجودہ فسلطینی حکومت پر اس کا کنٹرول ہے، لیکن بین الاقوامی امداد بند ہونے کی وجہ سے حماس کو حکومت چلانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

بین الاقوامی امداد دینے والے ممالک کا موقف ہے کہ وہ اس وقت تک امداد بحال نہیں کریں گے جب تک حماس تشدد ختم کرنے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان نہیں کرتی۔

محمود عباس کا کہنا ہے کہ انہوں نے صدارتی اور قانون ساز اسمبلی کے قبل از مدت انتخابات کرانے کا اعلان ’موجودہ گومگو کی کیفیت‘ ختم کرنے کی غرض سے کیا ہے۔

ادھر غزہ میں الفتح پارٹی اور حماس کے کارکنوں کے درمیان گزشتہ دنوں میں کئی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ اتوار کو بھی دن بھر تصادم کا سلسلہ جاری رہا۔ محمود عباس کی جانب سے نئے انتخابات کے اعلان کے بعد سے علاقے میں پرتشدد واقعات میں اتوار کو دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

غزہ میں اتوار کو الفتح پارٹی اور حماس کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں (فائل فوٹو)

برطانوی وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد محمود عباس نے مزید کہا ’ میں نے محسوس کیا کہ یہ ضروری ہے کہ لوگوں کو ایسے پلیٹ فارم پر رائے دینے کا موقع فراہم کیا جائے جو فلسطینیوں کے قومی مفادات کا حصول کر سکے۔‘

انہوں نے برطانوی وزیر اعظم پر زور دیا کہ وہ غیر ملکی امداد پر لگائی گئی پابندی کو ختم کریں اور یہ کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ ’سنجیدہ مذاکرات‘ کے لیے تیار ہیں۔

ٹونی بلیئر نے محمود عباس کی کوششوں کو سراہا اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں امن کی نئی کوششوں کی مدد کریں۔ محمود عباس سے بات کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم نے کہا ’ (امداد پر پابندی سے) آپ کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ ہم کوئی ایسی چیز نہیں چاہتے جو فلسطینی لوگوں کی مدد کی راہ میں آئے۔‘

پیر کو ٹونی بلیئر اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمر سے بھی ملیں گے۔

اتوار کو بغداد میں عراقی وزیراعظم نور المالکی کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلیئر کا کہنا تھا کہ برطانیہ عراق کی دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں اس کا ساتھ دے گا۔ بعد ازاں انہوں نے بصرہ میں برطانوی فوجی دستوں سے ملاقات کی۔ 2003 میں عراق پر اتحادی فوج کے قبضے کے بعد سے بلیئر ہر سال کرسمس سے قبل خطے میں موجود برطانوی فوجیوں سے ملاقات کرتے ہیں۔

فلسطینی شدت پسند ہلاک
اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینی شدت پسند ہلاک کردیا
مزاحمت کارمزاحمت کا حل کیا؟
امریکی فوجیوں کے لیئے نیا ہدایت نامہ
 اسمٰعیل ہانیہاسمٰعیل ہانیہ پر دباؤ
اسرائیلی فوجی کا اغوا، فلسطین میں بحران
فلسطینی انتخاباتفلسطینی انتخابات
ممکنہ التوا، تشدد اور حماس کی شمولیت
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد