کشیدگی ختم کرنے کے لیے مذاکرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حماس اور فتح میں کئی دنوں کی کشیدگی کے بعد ایسا لگتا ہے سفارتی طور پر ثالثی کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔ حماس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ دونوں گروہوں نے مصری اہلکاروں سے بات کی ہے۔ اس سے قبل حماس اور فتح دونوں نے ایک دوسرے پر جان لیوا حملوں کے الزام لگائے تھے۔ دریں اثناء غزہ اور غرب اردن میں حماس اور فتح کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ جھڑپیں حماس کے فتح پر اس الزام کے بعد ہوئی ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ فتح کے ایک اہم اہلکار نے اسماعیل ھنیہ پر قاتلانہ حملہ کروایا تھا۔ غرب اردن میں ہسپتال کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ادھر کم سے کم 32 زخمی آئے ہیں۔ غزہ سے بھی جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ غزہ میں ایک بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل ھنیہ نے کہا ان پر حملہ کرنے والوں کو انصاف کے کٹھہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ کس نے قافلے پر حملہ کیا تھا تاہم انہوں نے کسی فرد یا گروہ کا نام لینے سے گریز کیا۔ حماس کے رہنما نے حماس کی انیسویں برسی کے موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اتحاد اور امن کی اپیل کی تھی۔ جمعرات کو وزیر اعظم پر ہونے والے حملے میں ان کے محافظ مارے گئے تھے اور ان کے بیٹے سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں حماس کے الزام کے بعد جھڑپیں15 December, 2006 | آس پاس ’ھنیہ کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی‘14 December, 2006 | آس پاس حماس کا فتح پر الزام15 December, 2006 | آس پاس اسرائیل نے ھنیہ کا راستہ روک دیا14 December, 2006 | آس پاس غزہ: تین بچوں سمیت چار ہلاک11 December, 2006 | آس پاس غزہ میں ایک اور جج کی ہلاکت 13 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||