BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 December, 2006, 21:53 GMT 02:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ھنیہ کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی‘
فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھانیہ
فلسطینی وزیر اعظم کئی گھنٹے سرحد پر پھنسے رہے
حماس نے کہا ہے کہ غزہ کی سرحدی چوکی پر فلسطینی وزیرِ اعظم اسماعیل ھنیہ کے قافلے پر گولی چلانا دراصل ان کو قتل کرنے کی ایک کوشش تھی۔

فلسطینی وزیراعظم کا قافلہ اس وقت گولیوں کی زد میں آیا جب اسے کئی گھنٹے وہاں رکنے کے بعد غزہ جانے کی اجازت دی گئی۔

رفاح کے چیک پوائنٹ پر ہونے والے حملے میں ھنیہ کا ایک باڈی گارڈ ہلاک ہو گیا جبکہ ان کے بیٹے کو بھی گولی لگی۔ تاہم ان کے بیٹے کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے ایک بیان میں کہا کہ ’اسماعیل ھنیہ کا ایک باڈی گارڈ ان پر کیے گئے قاتلانہ حملے میں ہلاک ہو گیا ہے‘۔

اسرائیلی فوج نے اسماعیل ھنیہ کو سرحد پر کئی گھنٹے روکنے کے بعد غزہ آنے کی اجازت دی تاہم انہوں نے رفاح کی سرحد ان لاکھوں ڈالروں کے بغیر عبور کی جو وہ اپنے ساتھ امداد کے طور پر لائے تھے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ یہ رقم مبینہ طور پر دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال ہونے تھے۔

انہیں یہ رقم مجبوراً مصر میں اپنے نمائندے کے پاس چھوڑنا پڑی۔

ھنیہ کو سرحد پر روکے جانے کی خبر آگ کی طرح پھیل گئی اور حماس کے شدت پسندوں نے رفاح کی چوکی پر حملہ کر دیا۔

اس حملے میں دونوں طرف سے گولیاں چلائی گئیں جس میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔

اس دوران کئی گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد اسرائیل نے ھنیہ کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی۔ ان مذاکرات میں مصری حکام نے بھی شرکت کی۔

کہا جا رہا کہ اسماعیل ھنیہ مالی مشکلات کا شکار اپنی حکومت کے لیے ڈالروں کی شکل میں دی گئی بھاری امدادی رقوم فلسطین لا رہے تھے۔

اسرائیلی وزیر دفاع امیر پریٹز نے یورپی یونین کے مانیٹرز کو حکم دیا ہے کہ وہ سرحدی علاقے رفاح کو آمد و رفت کے لیے بند کر دیں۔ حماس کے حکومت میں آنے کے بعد سے مغربی ممالک کی سرکردگی میں فلسطین کا معاشی بائیکاٹ جاری ہے۔

ان پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی بد حالی کی وجہ سے فلسطین میں حماس کی حکومت اپنے اہلکاروں کو تنخواہیں دینے سے بھی قاصر ہے۔

اسرائیلی حکام الزام لگا رہے ہیں کہ اسماعیل ھنیہ اپنے ساتھ تیس ملین ڈالر فلسطین لا رہے ہیں، جو اس کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہونگے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ اسماعیل ھنیہ رفاح کے راستے صرف اس صورت میں آ سکتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھ رقم نہ لائیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد