فلسطین: الفتح اور حماس میں معاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا ہے کہ قومی اتحاد پر مبنی حکومت کی تشکیل کے لیئے مخالف جماعت ’حماس ‘ سے معاہدہ طے پا گیا ہے۔ حماس نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی اس کی تفصیلات طے ہونا باقی ہیں۔ اگلے چند دنوں میں اس کا رسمی اعلان کر دیا جائے گا۔ فلسطینیوں کو امید ہے کہ اس معاہدے سے ان کی رکی ہوئی بین الاقوامی امداد پھر سے بحال کر دی جائے گی۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر اور جماعت ’الفتح‘ کے سربراہ محمود عباس اور مخالف جماعت ’حماس‘ کے وزیراعظم اسماعیل ہانیہ کے مابین گزشتہ کئی مہینوں سے مذاکرات جاری ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا تھا کہ حماس کے ترجمان سمیع ابو زہری کا کہنا ہے کہ ’ ہم الفتح سے مل کر حکومت تشکیل دینے کو تیار ہیں مگر اس سلسلے میں ہمیں کوئی شرط منظور نہیں ہے‘۔ دونوں جماعتوں کے مابین اختلافات کی وجوہات میں حماس کا دہشت گردی کو چھوڑنے کا اعلان، اسرائیل کو تسلیم کرنا اور اسرائیل اور اس کا فلسطین کے مابین ہوئے امن معاہدے کو تسلیم کرنا شامل ہیں۔ بین الاقوامی امداد کے خاتمے سے فلسطینی اتھارٹی کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔ حکومت کے پاس ہزاروں ملازمین کو دینے کے لیئے تنخواہیں نہیں ہیں۔ حال ہی میں اقوام متحدہ نے تنبیہ کی ہے کہ فلسطین میں بنیادی ضروریات زندگی ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ اسرائیل نے کئی ماہ تک غزہ کی سرحدوں کو سیل کر رکھا ہے اور کئی ملٹری آپریشن کیئے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر ایسی کوئی حکومت تشکیل دی گئی اس کی سربراہی حماس کے اسماعیل ہانیہ کریں گے۔ | اسی بارے میں فلسطین: برطانوی تجویز مسترد11 September, 2006 | آس پاس عباس اولمرٹ سے ملنے پر راضی10 September, 2006 | آس پاس اولمرٹ عباس سے ملنے پر آمادہ09 September, 2006 | آس پاس شالیت کے بدلے فلسطینیوں کی رہائی05 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||