BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 December, 2006, 19:51 GMT 00:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غزہ میں ایک اور جج کی ہلاکت
فتح
فتح اور حماس کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
فلسطین میں حماس پارٹی کے ایک اہم رکن فارہ بسام کوغزہ کے جنوبی علاقے میں ایک نا معلوم شخص نے گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔

فارہ بسام کوخان یونس شہر میں ہلاک کیا گیا ہے۔ وہ حماس کے علاقا ئی کمانڈر تھے اور اسکے ساتھ ساتھ وہ ایک جج کے فرائض بھی انجام دے رہے تھے۔

حماس نےاس قتل کا الزام اپنی مخالف جماعت الفتح پر عائد کیا ہے لیکن فتح نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

گزشتہ پیر کو فتح گروپ کے حامی ایک سکیورٹی اہل کار کے تین بچوں کی ہلاکت کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایک بندوق بردار نےفارہ بسام کو عدالت کے پاس موجود ایک ٹیکسی سے باہر لایا اور بہت ہی نزدیک سے ان پرگولی چلائی۔

عینی شاہدین کے مطابق بندوق بردار نے عدالت کے باہر ان کے آنے کا کافی دیر تک انتظار کیا۔

فتح گروپ کے ترجمان توفیق ابو خوصہ نے کہا ’ہمارے حماس کے ہمارے بھائیوں کو الزام عائد کرنے سے پہلے تفتیش کا انتظار کرنا چاہئے۔‘

فتح گروپ کا کہنا ہے کہ ممکن ہے یہ موت ذاتی دشمنی کے سبب ہوئی ہو۔ اس علاقے میں گزشتہ چند دنوں میں یہ دوسرے جج کی ہلاکت ہے۔

غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار الن جان سٹون کا کہنا ہے کہ فتح اور حماس کے درمیان تعلقات ابتداء ہی سے اچھے نہیں رہے تھے لیکن گزشتہ دنوں فتح کے ایک سکیورٹی اہل کار پر حملے کے بعد سے حالات مزید خراب ہوگئے ہیں۔

چند روز قبل کچھ نا معلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے الفتح کے ایک اہم رہنما اور فلسطینی خفیہ ایجنسی کے اہل کار باہا کے تین کم سن بچوں اور ڈرائیور کو ہلاک کردیا تھا۔

گزشتہ روز دونوں فریقوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں کئی افراد زخمی ہوگئے تھے۔

عالمی برادری نے فلسطین میں حماس حکومت کا بائیکاٹ کر رکھا ہےاور اس سے نمٹنے کے لیے دونوں فریق گزشتہ کئی ماہ سے ایک متحدہ حکومت کی تشکیل کے لیے بات چیت کر رہے ہیں لیکن ابھی تک انہیں کامیابی نہیں ملی ہے۔

وزیراعظم اسماعیل حانیہ بیرونی ممالک کے طویل دورے پر ہیں لیکن ان تمام مسائل سے نمٹنے کے لیے وہ اپنا دورہ مختصر کرکے جلدی ہی واپس آرہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد