انتخابات کی تجویز پر حماس برھم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطین میں حکمران حماس پارٹی نے صدر محمود عباس کی طرف سے دوبارہ انتخابات کرانے کی تجویز پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ صدر محمود عباس کی جانب سے بات کرتے ہوئے حکام نے کہا ہے کہ قومی حکومت کی تشکیل میں تعطل کو دور کرنے کے لیے ہوسکتا ہے صدر محمود عباس نئے انتخابات کرانے کا اعلان کریں۔ فلسطینی میں دوبارہ انتخابات کرانے کی تجویز کو فلسطینی انتظامیہ کو ملنے والی مغربی امداد کو بحال کروانے کے لیے کی جانے والی کوشیشوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس سال جنوری میں حماس کی انتخابی کامیابی کے بعد مغربی ممالک نے فلسطینی انتظامیہ کو دی جانے والی مالی امداد پر پابندی لگا دی تھی۔ ایک ایرانی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم اسماعيل ہنيہ نے کہا ہے کہ دوبارہ انتخابات کروانے سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں انتخابات کروانا فلسطینی عوام کی توہین ہے جنہوں نے انتخابات میں حماس پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ تاہم فلسطینی مذاکراتِ اعلی صائب ارکات کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی تعطل کو حل کرنا فلسطینیوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ صدر محمود عباس کی فتح پارٹی کی مجلسِ عاملہ نے بھی قومی یکجہتی کی حکومت کی تشکیل میں حائل سیاسی تعطل کو دور کرنے کے لیے از سر نو انتخابات کرانے کی تجویز پر اتفاق کیا ہے۔ حماس پر دباؤ ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف مسلح جہدوجہد ترک کر دے، اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر لے اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ماضی میں ہونے والے تمام معاہدوں کی توثیق کر دے۔ | اسی بارے میں ’تہذیبوں کے اتحاد‘ کی نئی کوشش13 November, 2006 | آس پاس غزہ کی پٹی پر میزائیل حملے15 November, 2006 | آس پاس فلسطینی وزیراعظم استعفے پر تیار11 November, 2006 | آس پاس انسانی ڈھال نے حملہ روک دیا19 November, 2006 | آس پاس فلسطینی پیشکش مسترد 24 November, 2006 | آس پاس جنگ بندی قائم، رہنما پُر امید26 November, 2006 | آس پاس ’خانہ جنگیوں‘ کا امکان26 November, 2006 | آس پاس قیام امن کے لیے اولمرت کا منصوبہ27 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||