BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 November, 2006, 15:43 GMT 20:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تہذیبوں کے اتحاد‘ کی نئی کوشش
رپورٹ بنانے والوں کے مطابق اسلام اور مغرب کے درمیان باہمی شکوک کشیدگی بڑھا رہے ہیں
ایک نئی رپورٹ کے مطابق اسلام اور مغرب کے درمیان حائل خلیج کوکم کرنا اسرائیل اور فلسطینی تنازع کو حل کرنے کے لیے اہم ترین اقدام ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ رپورٹ اقوامِ متحدہ کی جانب سےجمع کیے گئے ماہرین کے ایک گروپ نے مرتب کی ہے جس میں جنوبی افریقہ کے آرک بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو اور ایران کے سابق صدر محمد خاتمی شامل ہیں۔

یہ منصوبہ جسے تہذیبوں کے ٹکراؤ کے نام کے تناظر میں تہذیبوں کو اتحاد پکارا جا رہا ہے، گزشتہ برس عمل میں آیا تھا جب اقوامِ متحدہ نے اس منصوبے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس میں ترکی اور سپین کے ممالک بھی تعاون کر رہے ہیں۔

بحیرۂ عرب کے دو ممالک جن میں سے ایک مسلمان ملک ہے اور دوسرا مذہب کے لحاظ سے کیتھولک، یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام اور مغرب کے درمیان رخنے اور ایک دوسرے کے لیے کشیدگی کم کرنے کی کوشش میں وہ اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یہ رپورٹ دنیا کے بیس نمایاں رہنماؤں نے تیار کی ہے جو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان کے سامنے آج ترکی کے شہر استنبول میں پیش کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور عراق کی صورتحال کی وجہ سے مسلمانوں میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔

ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اسلام اور مغرب کے درمیان خلیج کی وجہ مذہبی یا تاریخی اختلافات نہیں، بلکہ سیاسی مسائل ہیں۔

جنوبی افریقہ کے آرچ بشپ ڈیزمنڈ ٹوٹو کے مطابق: ’یہ تہذیبوں کا تصادم نہیں ہے۔ کشیدگیاں ہیں اور کہیں دشمنیاں بھی لیکن ان کا تعلق مذہب یا ثقافت یا تہذیب سے نہیں۔ دراصل ان کی وجوہات سیاسی ہیں۔ یہ وجوہات اس وقت سامنے آتی ہیں جب لوگ غربت کا شکار ہوتے ہیں۔ جب ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہوتا اور جب ان کے ساتھ توہیں آمیز برتاؤ کیا جاتا ہے۔‘

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ مغربی اور مسلمان معاشروں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کو روکنے کے لیے تمام مذاہب کے لوگوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔
کلپ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دراصل لاعلمی اکثر اختلافات کی وجہ ہے اور اس لیے نوجوانوں کے لیے خاص تعلیمی پروگرام بنانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر بین الاقوامی سطح پر مشرق وسطیٰ اور عراق میں جاری تشدد کو روکنے کی کوشش نہ کی گئی تو اس قسم کے تعلیمی پروگراموں کا زیادہ فائدہ نہیں ہو گا۔

اسی بارے میں
’شدت پسندی مسترد کریں‘
01 June, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد